برازیل میں سائنسدانوں نے شیشے کے سیکڑوں نایاب ٹکڑے دریافت کیے ہیں جو لاکھوں سال قبل شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے وجود میں آئے تھے۔
یہ ٹکڑے پگھلی ہوئی چٹان کے وہ چھینٹے ہیں جو ٹکراؤ کے وقت ہوا میں اچھلے اور تیزی سے ٹھنڈے ہوکر شیشے کی شکل اختیار کرگئے۔
کیمپیناس یونیورسٹی کے ماہر ارضیات الوارو کروسٹا کے مطابق یہ دریافت سائنسی فیلڈ ورک سے نہیں بلکہ ایک مقامی شخص نے کی۔ میناس گیرائس کے رہائشی نے شیشے کا ایک عجیب ٹکڑا دیکھا اور ساؤ پالو یونیورسٹی کے ماہر سے رابطہ کیا۔
پہلے تو سائنسدانوں کو شک تھا کیونکہ آن لائن آسانی سے مصنوعی ٹکٹائٹس مل جاتے ہیں لیکن چند ہفتوں بعد 60 کلومیٹر دور دوسرے شخص کی طرف سے بھی ایسی ہی اطلاع آئی تو محققین نے نمونے مانگے۔
اب تک 600 سے زائد ٹکڑے مل چکے ہیں۔ شروع میں یہ 90 کلومیٹر طویل علاقے میں پھیلے تھے لیکن اب نئی معلومات کے مطابق یہ 900 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ٹکٹائٹس کو گیرائیسائٹس کا نام دیا گیا ہے۔
ان ٹکڑوں کی سب سے بڑی خاصیت ان میں پانی کا نہ ہونا ہے۔ عام آتش فشانی شیشے میں 700 سے 20 لاکھ فی ملین تک پانی ہوتا ہے لیکن گیرائیسائٹس میں صرف 71 سے 107 فی ملین پانی ہے۔
کروسٹا کا کہنا ہے کہ ٹکٹائٹس میں پانی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے کیونکہ شہاب ثاقب کی ٹکر سے پیدا ہونے والی حرارت آتش فشاں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو چٹان سے تمام نمی ختم کردیتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک وہ گڑھا دریافت نہیں ہوسکا جہاں یہ شہاب ثاقب گرا تھا۔ ٹکٹائٹس کے صرف تین میدانوں میں گڑھا دریافت ہوسکا ہے۔ سب سے بڑا آسٹریلوی میدان ہے جس کا گڑھا سمندر کی گہرائی میں دبے ہونے کا امکان ہے۔
آرگون آئسوٹوپس کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ٹکڑے زیادہ سے زیادہ 63 لاکھ سال پرانے ہیں۔ کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ قدیم براعظمی چٹان سے بنے ہیں جو ساؤ فرانسسکو کریٹن سے تعلق رکھتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت برازیل میں شہاب ثاقب کی نامکمل تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹکٹائٹس شاید اتنی نایاب نہیں ہیں جتنا سمجھا جاتا ہے بلکہ شاید انہیں شیشے کی دوسری اقسام سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔




















