Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

زہرہ کی سطح پر حیران کن نمونے دریافت

کئی دہائیوں سے زہرہ (وینس) کی سطح نظام شمسی کے سب سے پراسرار ماحول میں سے ایک رہی ہے۔

کئی دہائیوں سے زہرہ (وینس) کی سطح نظام شمسی کے سب سے پراسرار ماحول میں سے ایک رہی ہے۔ صرف چند خلائی جہازوں نے اس سیارے کی سطح پر اتر کر ڈیٹا بھیجا ہے اور وہ بھی انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ کے باعث زیادہ دیر کام نہ کرسکے۔ اس لیے سائنسدانوں نے محدود پیمائشوں کے ساتھ کام کیا ہے۔

مشہور ماہر فلکیات کارل ساگن نے خبردار کیا تھا کہ محدود شواہد سے ڈرامائی نتائج اخذ کرنا آسان ہے، جیسے یہ تصور کرنا کہ وہاں ڈائنوسار گھومتے ہیں۔ تاہم محدود ڈیٹا کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ سیکھا نہیں جاسکتا۔

سوربون یونیورسٹی کے میکسینس لیفیور کی قیادت میں ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ماضی کے مشنز سے حاصل شدہ پیمائشوں کا استعمال کرتے ہوئے وینس کی سطح پر ہوا کے رویے اور دھول کی حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے ایک ماڈل تیار کیا ہے۔

ان کا مقصد آنے والی وینس مشنز کو وہاں کے ماحولیاتی حالات کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا ہے۔

آرکائیو پر جاری کردہ اس تحقیق میں دو اہم عوامل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس میں درجہ حرارت میں تبدیلی اور دھول کی نقل و حمل شامل ہیں۔

محققین نے وینس کو ایک یکساں ماحول کے بجائے مختلف علاقوں میں تقسیم کیا۔ اس علاقائی نقطہ نظر سے وہ مقامی حالات کو تشکیل دینے والے عمل کو الگ کرسکتے ہیں۔

درجہ حرارت اور دھول کی حرکت کے پیچھے وہی قوت کارفرما ہے جو زمین پر موسم بناتی ہے۔ ہوا: وینس پر ایک دن 117 زمینی دنوں پر مشتمل ہے اور رات بھی اتنی ہی لمبی ہے۔

اس کی وجہ سے فضا میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں کیونکہ سیارہ دن میں شمسی شعاعوں سے آہستہ آہستہ گرم اور رات میں اپنی انفراریڈ شعاعوں سے آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ تبدیلیاں سیارے کے مختلف علاقوں میں مختلف ہوتی ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں (ہائی لینڈز) اور میدانی علاقوں (لو لینڈز) کے درمیان، نیز خط استوا اور قطبوں کے درمیان بھی فرق پایا جاتا ہے۔