Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لیونارڈو ڈا ونچی کا 500 سال پرانا معمہ حل ہوگیا

لیونارڈو ڈا ونچی کی 1490 میں بنائی گئی ویٹروویئن مین نامی پینٹنگ کا 500 سالہ معمہ آخر کار حل ہوگیا۔

مشہور اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی کی 1490 میں بنائی گئی ویٹروویئن مین نامی پینٹنگ کا 500 سالہ معمہ آخر کار حل ہوگیا ہے۔ اس پینٹنگ میں انسانی جسم کے کامل تناسب کو دکھایا گیا ہے۔

لندن کے ڈینٹسٹ روری میک سیونی نے اس پینٹنگ میں ایک خفیہ تفصیل دریافت کی ہے جو ویٹروویئن مین کی ٹانگوں کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔

ویٹروویئن مین رومی معمار ویٹروویئس کی تحریروں سے متاثر ہے جس کا خیال تھا کہ کامل انسانی جسم کو ایک دائرے اور مربع کے اندر فٹ ہونا چاہیے۔

ڈا ونچی نے اپنے نوٹس میں لکھا تھا ’’اگر آپ اپنی ٹانگیں کھولیں اور بازو اتنے اوپر اٹھائیں کہ آپ کی انگلیاں سر کی لکیر کو چھوئیں تو ٹانگوں کے درمیان کا فاصلہ ایک متوازی الاضلاع مثلث بنائے گا‘‘۔

جب میک سیونی نے اس مثلث کا حساب لگایا تو اس نے پایا کہ پاؤں کے پھیلاؤ اور ناف کی اونچائی کا تناسب تقریباً 1.64 سے 1.65 ہے۔ یہ ٹیٹراہیڈرل تناسب 1.633 کے بہت قریب ہے جوکہ ایک منفرد متوازن ہندسی شکل جو باضابطہ طور پر 1917 میں دریافت ہوئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1864 سے دندان سازی میں استعمال ہونے والا بون ول مثلث بھی 1.633 کے تناسب پر کام کرتا ہے جب کہ میک سیونی کا خیال ہے کہ یہ اتفاق نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انسانی جبڑا قدرتی طور پر ٹیٹراہیڈرل جیومیٹری کے مطابق ترتیب پاتا ہے جو میکانیکی کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بناتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر یہ تناسب ہمارے جسم میں بار بار پایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی جسم کائنات میں موجود بہترین مقامی ترتیب کے اصولوں کے مطابق تیار ہوا ہے۔

اگر میک سیونی درست ہیں تو لیونارڈو ڈا ونچی نے ویٹروویئن مین بناتے ہوئے ایک عالمگیر اصول کو دریافت کرلیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈا ونچی نے حقیقت کی ریاضیاتی نوعیت کے بارے میں بنیادی سچائیوں کو سمجھ لیا تھا۔

ماہرین کی رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن لیانارڈو ڈا ونچی کے نوٹس میں متوازی الاضلاع مثلث کا ذکر ضرور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویٹروویئن مین کی ٹانگوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ ضرور اہم ہے۔