Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائنسدانوں کی بڑی کامیابی: سالوں کی تحقیق کے بعد نیا کیمیل ری ایکشن دریافت

محققین نے سلفر ایٹموں کے درمیان تعلق (بانڈ) کے تبادلے کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔

آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی کی قیادت میں کام کرنے والی ایک ٹیم نے کیمسٹری میں ایک اہم دریافت کا اعلان کیا ہے۔ محققین نے سلفر ایٹموں کے درمیان تعلق (بانڈ) کے تبادلے کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے جو کمرے کے درجہ حرارت پر خود بخود عمل پذیر ہوتا ہے۔

سلفر کے بانڈز کو عام طور پر ٹوٹنے اور نئے تعلق قائم کرنے کے لیے حرارت، روشنی یا کیمیائی عوامل کی ضرورت ہوتی ہے۔

تاہم یہ نیا ری ایکشن جسے ’’ٹرائی سلفائیڈ میٹاتھیسس‘‘ کا نام دیا گیا ہے- بغیر کسی بیرونی محرک کے صرف کمرے کے درجہ حرارت پر مخصوص مائعات میں خود بخود ہوجاتا ہے۔

اس ری ایکشن میں تین سلفر ایٹموں پر مشتمل چین (ٹرائی سلفائیڈز) آپس میں اپنے حصے تبدیل کرلیتی ہیں، بالکل ایسے جیسے دو جوڑے آپس میں پارٹنر تبدیل کرلیں۔

فلنڈرز یونیورسٹی کے کیمیا دان جسٹن چاکر کا کہنا ہے کہ بالکل نیا کیمیائی ری ایکشن دریافت کرنا نایاب بات ہے اور اس سے بھی نایاب یہ ہے کہ یہ اتنی زیادہ مفید ہو۔ یہ ری ایکشن انتہائی تیزی سے ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو سیکنڈوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔

محققین نے اس دریافت کے کئی عملی استعمال بھی دکھائے۔ انہوں نے اس تکنیک سے ایک اینٹی ٹیومر دوا میں تبدیلی کی اور ایسا پلاسٹک تیار کیا جسے آسانی سے ڈھالا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ری سائیکل بھی کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیورپول کے کیمیا دان ٹام ہیزل کا کہنا ہے کہ ہم نے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا صرف ایک حصہ ہیں۔

یہ دریافت ادویات سازی سے لے کر مٹیریل سائنس تک کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔