66 ملین سال قبل جب شہاب ثاقب نے زمین سے ٹکرا کر ڈائنوسار کا خاتمہ کیا تو اس کے بعد زندگی نے سائنسدانوں کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے واپس پلٹنا شروع کردیا۔ ٹیکساس یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے۔
جیا لوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق پلاکٹن کی نئی انواع شہاب ثاقب کے ٹکرانے کے صرف 2 ہزار سال کے اندر وجود میں آگئی تھیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور ٹیکساس یونیورسٹی کے پروفیسر کرس لوری کا کہنا ہے کہ یہ رفتار انتہائی تیز ہے۔ عام طور پر نئی انواع بننے میں لاکھوں سال لگ جاتے ہیں۔
ان کے مطابق اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ انتہائی تباہ کن واقعات کے بعد بھی زندگی کتنی تیزی سے ترقی کرسکتی ہے۔
پہلے سائنسدان سمجھتے تھے کہ نئی انواع کو بننے میں دسیوں ہزار سال لگے ہوں گے لیکن ہیلیم 3 نامی آئسوٹوپ کی مدد سے صحیح تاریخوں کا تعین کیا گیا۔
یہ آئسوٹوپ سمندری تلچھٹ میں مستقل رفتار سے جمع ہوتا ہے جس سے وقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
محققین نے یورپ، شمالی افریقا اور خلیج میکسیکو کی چھ جگہوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔ انہوں نے پایا کہ پی ایگوبینا نامی پلاکٹن کی نئی نوع شہاب ثاقب کے ٹکرانے کے ساڑھے 3 سے 11 ہزار سال کے درمیان وجود میں آئی۔
بعض دوسری انواع تو 2 ہزار سال سے بھی کم عرصے میں نمودار ہوگئی تھیں۔
پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی برالوور کا کہنا ہے کہ زندگی کی یہ لچک حیران کن ہے۔ ایک ارضیاتی پلک جھپکنے میں زندگی نے دوبارہ منظم ہونا شروع کردیا۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 6 ہزار سال کے اندر پلاکٹن کی 10 سے 20 نئی انواع نمودار ہوئیں۔ اس دریافت سے ثابت ہوتا ہے کہ تباہ کن واقعات کے بعد بھی زندگی نہ صرف واپس آسکتی ہے بلکہ نئی شکلوں میں تیزی سے ترقی کرسکتی ہے۔



















