سائنسدانوں نے جنوبی امریکا میں پہلی بار خلائی شیشے (ٹیکٹائٹس) کے میدان دریافت کیے ہیں۔
یہ شیشہ اس وقت بنتا ہے جب شہاب ثاقب کے زوردار ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی شدید حرارت زمین کی سطح پر موجود چٹانوں کو پگھلا دیتی ہے۔ پگھلے ہوئے قطرے جب ٹھنڈے ہوکر زمین پر گرتے ہیں تو شیشے کے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
ٹیکٹائٹس کا ملنا خود بھی نایاب ہے لیکن ان کے پورے میدان دریافت ہونا اور بھی نایاب ہے۔ اب تک ایسے مقامات صرف آسٹریلیشیا، وسطی یورپ، آئیوری کوسٹ، شمالی امریکا اور بیلیز میں ملے تھے۔
اتفاقیہ دریافت
یہ دریافت اتفاق سے ہوئی جب برازیل کی ریاست میناس گیرائس کے ایک رہائشی نے اپنی زمین سے ملنے والے ایک عجیب شیشے نما ٹکڑے کی شناخت کے لیے سائنسدانوں سے رابطہ کیا۔
یہ ٹکڑا ماہر ارضیات الوارو کروسٹا کو بھیجا گیا جن کو شروع میں شک تھا کہ یہ ٹیکٹائٹس ہوسکتا ہے۔
کروسٹا نے بتایا کہ ٹیکٹائٹس انتہائی نایاب ہوتے ہیں اور بہت مخصوص حالات میں بنتے ہیں۔ جب انہوں نے تصدیق کرلی تو انہیں درجنوں کلومیٹر دور سے مزید نمونے ملنے لگے۔
مقامی افراد کی مدد سے سائنسدانوں نے 500 سے زائد شیشے کے ٹکڑے جمع کیے جن کا سائز 1 سے 6 سینٹی میٹر تک ہے۔
وسیع میدان
ابتدائی طور پر محققین نے میناس گیرائس میں 90 کلومیٹر طویل ٹیکٹائٹس کا میدان دریافت کیا۔ تحقیق مکمل ہونے کے بعد بایا اور پیاؤئی ریاستوں میں مزید نمونے ملے جس سے یہ میدان 900 کلومیٹر سے زیادہ تک پھیل گیا۔ کروسٹا کا خیال ہے کہ مزید دریافتوں سے یہ اور بھی وسیع ہوسکتا ہے۔
ان برازیلی ٹیکٹائٹس کو ’’گیرائیسائٹس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ آئسوٹوپ تجزیے سے پتا چلا کہ یہ 63 لاکھ سال پرانے ہیں جب کہ ابھی تک وہ گڑھا نہیں مل سکا جس سے یہ شیشہ بنا۔
کروسٹا کو امید ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور ریاضیاتی نمونوں کی مدد سے وہ اس گڑھے کو تلاش کرسکیں گے۔




















