Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا میں 7 ٹن وزنی شہاب ثاقب نے آسمان کو روشن کردیا

دھماکے سے پیدا ہونے والی آواز اور لرزش سے مقامی افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں منگل کے روز ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب ساڑھے 7 ٹن وزنی ایک بڑا شہاب ثاقب 45 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں گزرا اور زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس دھماکے سے پیدا ہونے والی آواز اور لرزش سے مقامی افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ شہاب ثاقب تقریباً 6 فٹ قطر کا تھا۔ یہ پہلی بار جھیل ایری کے قریب تقریباً 50 میل کی بلندی پر دیکھا گیا اور پھر وادی سٹی کے اوپر سے گزرتا ہوا ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق یہ شہاب ثاقب اس وقت پھٹا جب اس نے 55 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ اس کے ٹوٹنے سے 250 ٹن بارود کے برابر توانائی خارج ہوئی۔ نیشنل ویدر سروس کے دفتر میں بھی عملے نے اس دھماکے کی آواز سنی اور جھٹکے محسوس کیے۔

اس شہاب ثاقب کی روشنی اتنی تیز تھی کہ اسے صبح کے 9 بجے کے قریب وسکونسن سے میری لینڈ تک کئی ریاستوں میں دیکھا گیا۔ امریکن میٹیور سوسائٹی کو متعدد ریاستوں سے اطلاعات موصول ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کا زیادہ تر حصہ فضا میں جل کر خاکستر ہوگیا تاہم کچھ چھوٹے ٹکڑے زمین پر گرنے کا امکان ہے۔

ناسا کے ماہر بل کک کے مطابق یہ شہاب ثاقب جھیل ایری کے قریب لورین کے علاقے میں پہلی بار دیکھا گیا اور میڈینا کے شمال میں واقع وادی سٹی کے اوپر پھٹ کر بکھر گیا۔

ماہر فلکیات کارل ہرگنروتھر نے بتایا کہ امریکا میں روزانہ اوسطاً ایک شہاب ثاقب گرتا ہے اور چھوٹے خلائی ذرات تو فی گھنٹہ 10 بار گرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے سائنسدان خصوصی کیمروں سے ان پر نظر رکھتے تھے لیکن اب موبائل فونز اور سیکیورٹی کیمروں کی بدولت عوام بھی ان واقعات کو ریکارڈ کررہے ہیں۔