ناسا کی پرسیورنس روور نے مریخ کی سطح کے نیچے ایک وسیع قدیم دریا کے نظام کو دریافت کیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرخ سیارے پر پانی کی موجودگی کا دورانیہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ طویل تھا۔
پرسیورنس روور کا آر آئی ایم ایف اے اے ایکس نامی آلہ زمین میں گھس کر تصاویر بناتا ہے، اس آلہ نے جیزیرو کریٹر کے نیچے 35 میٹر گہرائی تک جاکر پرانی تہوں کا پتا لگایا ہے۔
ان تہوں میں ڈھلوانی شکلیں ہیں جو زمین پر دریا کے پانی سے بنتی ہیں۔ یہ پرانی تہہ اس دریا سے بھی قدیم ہے جسے روور سطح پر دریافت کررہی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ماہر ایملی کارڈریلی کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مریخ پر زندگی کے امکانات کا دورانیہ مزید پیچھے چلا گیا ہے۔ جیزیرو کریٹر کی یہ پرانی تہہ تقریباً 4.2 ارب سال پرانی ہے۔
محققین نے ستمبر 2023 سے فروری 2024 کے دوران 6.1 کلومیٹر طویل علاقے میں 78 بار ریڈار سے پیمائش کی۔ اس ڈیٹا سے پتا چلا کہ یہ پرانی تہہ 90 میٹر تک موٹی ہے اور اس میں نہریں، چینلز اور بڑے پتھر دفن ہیں جو بہتے پانی کی نشانیاں ہیں۔
یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ مریخ پر پانی کے کئی ادوار گزرے ہیں۔ اس سے زندگی کے امکانات کی تحقیق کو نئی جہت ملے گی کیونکہ پانی جتنا زیادہ عرصہ رہے گا، زندگی کے ظہور کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مریخ پر ماضی کی زندگی کے آثار ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ زمین کی گہرائیوں میں پرانے زمانے کے کیمیائی حالات محفوظ ہوسکتے ہیں۔




















