کسی بھی شے سے فن پارے تراشنے کے لیے مخصوص اوزار کی ضرورت ہوتی ہے چین سی تعلق رکھنے والی خاتون یہ کام اپنے دانتوں سے انجام دیتی ہیں۔
چین کے صوبہ ہوبے کے شہر اینشی سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ چن کن جو کہ ایک کانٹینٹ کریئٹر اور اپنے دانتوں کا استعمال کرتے ہوئے گاجروں پر نہایت باریک اور پیچیدہ نقش و نگار بناتی ہے کافی مقبول ہورہی ہے۔
چن کن کی اس کی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے انہیں ’’ہیومن تھری ڈی پرنٹر‘‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ وہ بغیر کسی چاقو یا اوزار کے صرف اپنے دانتوں سے گاجروں کو تراش کر پیچیدہ مجسمے بناتی ہے، اور خود کو “دنیا کی واحد دانتوں سے نقش تراشی کرنے والی فنکار” بھی کہتی ہیں۔

چن کے مطابق اس نے یہ فن اتفاقاً دریافت کیا۔ گزشتہ سال اسپرنگ فیسٹیول کے دوران لائیو اسٹریمنگ کرتے ہوئے وہ گاجر کھا رہی تھی کہ اس نے اپنے دانتوں سے اسے ایک سادہ شکل دینے کی کوشش کی۔ اس کی یہ تخلیق ناظرین کو بہت پسند آئی، جس کے بعد اس نے مختلف سبزیوں پر تجربات شروع کر دیے۔
چن نے سفید اور سبز مولیوں پر طبع آزمائی کی تاہم وہ اس کے معدے کے لیے زیادہ موزوں نہ تھیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوبارہ گاجر کا رخ کیا۔
گاجر نہ صرف چن کے معدے کے لیے بہتر ہے بلکہ اس کا چمکدار نارنجی رنگ اور مضبوط ساخت اسے تراشنے کے لیے بھی مناسب بناتے ہیں، بغیر دانتوں کو نقصان پہنچائے۔

چن اپنے فن پارے بناتے وقت گاجر کو پہلے سے نہیں کاٹتی یا تراشتی، بلکہ صرف اپنے دانتوں خاص طور اور کبھی کبھار اوپری سامنے لگے چھ دانتوں کا استعمال کرتے ہوئے فن پارے تراشتی ہیں جبکہ باریک نقش و نگار بنانے کے لیے وہ بہت احتیاط اور مہارت سے کام لیتی ہے۔ اس پورے عمل میں وہ اپنے تجربے اور احساس پر انحصار کرتی ہے۔
اب تک چن 100 سے زائد گاجر کے فن پارے تراش چکی ہے جبکہ ان میں سے دیوارِ چین اور ییلو کرین ٹاور کافی مقبول ہیں جبکہ انہوں نے ان کی ویڈیو بھی شیئر کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ان میں کسی قسم کا اوزار استعمال نہیں کی۔
چونکہ یہ کام دانتوں سے انجام دیا جاتا ہے اسی لیے چن نے ان کی حفاظت کے لیے میٹھا کم کر دیا ہے، ساتھ ہی کاربونیٹڈ مشروبات سے بھی پرہیز کرتی ہے، دن میں کم از کم دو بار دانت صاف کرتی ہے اور کھانے کے بعد کلی بھی کرتی ہے۔ وہ زیادہ دیر تک کام کرنے کے بعد وقفہ بھی لیتی ہے، تاہم وہ مانتی ہے کہ لمبے وقت تک تراش خراش کرنے سے دانتوں میں حساسیت محسوس ہوتی ہے۔
جب اس پر کھانے کے ضیاع کا الزام لگایا گیا تو چن چن نے وضاحت کی کہ وہ کچھ بھی ضائع نہیں کرتی۔ وہ اپنے بنائے گئے فن پاروں کو کھانا پکانے میں استعمال کرتی ہے جبکہ بچے ہوئے ٹکڑے جانوروں جیسے سور اور مرغیوں کے چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔




















