یوٹاہ یونیورسٹی کے محققین نے گریٹ سالٹ جھیل کے نیچے میٹھے پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت فضائی برقی مقناطیسی سروے کے ذریعے کی گئی۔
محققین نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جھیل کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع فارمنگٹن بے کے علاقے کا سروے کیا۔ اس سروے میں برقی ایصالیت کا پتا لگایا گیا جو کھارے اور میٹھے پانی میں فرق کرنے میں مدد دیتا ہے، ساتھ ہی پتھروں کی ساخت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سروے میں معلوم ہوا کہ گریٹ سالٹ جھیل کے نیچے بیڈراک کی گہرائی میں اچانک بہت زیادہ کمی آجاتی ہے جس سے ریت اور گاد بھرنے کی بڑی جگہ بن جاتی ہے۔ یہ تلچھٹ میٹھے پانی سے سیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق میٹھے پانی کا یہ ذخیرہ 3 سے 4 کلومیٹر تک گہرائی میں پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ جھیل کے کناروں پر میٹھے پانی کی موجودگی کی توقع تھی لیکن جو بات حیران کن تھی وہ اس کی وسعت ہے۔ یہ ذخیرہ فارمنگٹن بے کے بیسن کے مرکز تک پھیلا ہوا ہے اور ممکن ہے کہ پوری جھیل کے نیچے موجود ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے پانی کے وسائل کی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ گریٹ سالٹ لیک کے پانی کے مسلسل بخارات بننے کی وجہ سے باقی رہ جانے والی دھول آلودگی کا مسئلہ بن رہی ہے۔ یہ دھول زہریلی دھاتوں کے ساتھ شہری علاقوں تک پہنچ رہی ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ اس میٹھے پانی کو دھول کے گرم مقامات پر چھڑک کر اس مسئلے کو کم کیا جاسکتا ہے تاہم وہ اس سے پہلے یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس پانی کو نکالنے سے میٹھے پانی کا نظام کس طرح متاثر ہوگا۔
محققین اب پوری گریٹ سالٹ لیک کا سروے کرنے کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اس میٹھے پانی کی کل مقدار کا اندازہ لگایا جاسکے۔




















