Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

زمین کے دن بدتریج لمبے ہوتے جارہے ہیں لیکن کیوں؟ وجہ جانیے

فی الحال دن کی طوالت میں ہر صدی میں 1.33 ملی سیکنڈ کا اضافہ ہورہا ہے۔

زمین کے دن بتدریج لمبے ہورہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔

ویانا یونیورسٹی اور زیورخ کی ماہرین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئر اور برفانی تہیں پگھل رہی ہیں جس سے زمین کا ماس دوبارہ تقسیم ہورہا ہے اور اس کی گردش میں سست روی آرہی ہے۔

فی الحال دن کی طوالت میں ہر صدی میں 1.33 ملی سیکنڈ کا اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح لاکھوں سالوں میں بے مثال ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر دن کی طوالت پر چاند کے اثر سے بھی زیادہ ہوجائے گا۔

محققین نے اس تحقیق کے لیے فورامینیفیرا نامی سمندری جانداروں کے فوسلز کا تجزیہ کیا اور 40 لاکھ سال کے دوران سمندر کی سطح میں تبدیلیوں اور دن کی طوالت کا حساب لگایا۔

انہوں نے پہلی بار مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا ماڈل بھی استعمال کیا جو قدیم موسمیاتی ڈیٹا میں موجود غیر یقینی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔

یہ تبدیلی اسی طرح ہورہی ہے جیسے برفانی اسکیٹر جب اپنے بازو پھیلاکر اپنی گردش سست کرلیتا ہے۔ پگھلتی برف کی وجہ سے زمین کا ماس قطبوں سے خط استوا کی طرف منتقل ہورہا ہے جس سے زمین کی شکل میں معمولی تبدیلی آرہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دن کی طوالت میں اضافے کی موجودہ شرح پچھلے 36 لاکھ سال میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اگرچہ 1.33 ملی سیکنڈ کا اضافہ بہت کم لگتا ہے لیکن یہ تبدیلی مواصلاتی نظام اور خلائی ٹیکنالوجی کے لیے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ شرح کے حساب سے 21 ویں صدی کے آخری عشروں میں یہ اضافہ 2.62 ملی سیکنڈ فی صدی تک جاسکتا ہے۔ یہ وہ شرح ہوگی جو دن کی طوالت پر چاند کے اثر سے بھی زیادہ ہوگی۔

یہ دریافت بتاتی ہے کہ انسان زمین کی گردش کے نظام کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم یہ اثر ہمارے لیے کسی فائدے سے کم اور مشکلات سے زیادہ ہے۔