شہرت کا نشہ بھی عجیب ہے لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرتے ہیں یہاں تک کہ خود کو اغوا کرنے کا جھوٹا ڈرامہ بھی رچانے سے گریز نہیں کرتے ایسا ہی ایک واقعہ برازیل میں پیش آیا۔
برازیل کی ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر پر الزام ہے کہ اس نے اپنی آن لائن شہرت بڑھانے کے لیے خود اپنے اغوا کی منصوبہ بندی کی۔
21 اپریل 2025 کو انفلوئنسر مونیکی فراگا اور اس کے شوہر لوکاس کو اس وقت تین مسلح افراد نے روک لیا جب وہ شمالی برازیل کے علاقے ایگاراسو میں اپنے گھر واپس آ رہے تھے۔
مونیکی نے بعد میں اپنے ہزاروں فالوورز کو بتایا کہ وہ اور اس کا شوہر ایک خوفناک واقعے سے گزرے لیکن بعد میں پولیس کی تحقیقات میں حیران کن انکشافات سامنے آئے۔
مونیکی نے اپنے فالوورز کو بتایا میں لوکاس کے ساتھ گھر واپس آ رہی تھی تین مسلح افراد نے مجھے میری گلی میں روک لیا پہلے مجھے لگا وہ میری گاڑی لینا چاہتے ہیں لیکن جب انہوں نے ہمیں گاڑی سے اتر کر دوسری گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا تو مجھے اندازہ ہوا کہ معاملہ بہت سنگین ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس کے ذریعے واقعہ بیان کرتے ہوئے مونیکی فراگا نے بتایا کہ تینوں افراد انہیں ایک دریا کے قریب جنگل میں لے گئے جہاں ان سے خود اپنا تاوان ادا کرنے پر مجبور کیا اس دوران مسلح افراد مسلسل دھمکیاں بھی دیتے رہے کہ اگر انہوں نے بات نہ مانی تو انہیں گولی مار دی جائے گی یہاں تک کہ انفلوئنسر کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ شاید اپنے خاندان کو دوبارہ نہ دیکھ سکیں گی۔
مونیکی نے کہا کہ میرے ذہن میں صرف اپنے بچوں کا خیال تھا اور میں کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں سب کچھ دے دوں گی بس مجھے کچھ مت کرو،میں یہاں سے نکل کر سب کچھ بھول جاؤں گی تاہم وہ مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے کہ میں تمہارے گھٹنے میں گولی مار دوں گا میں تمہیں پاؤں میں گولی مار دوں گا لیکن میں اتنی منتیں کرتی رہی کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسرز کیلئے بڑی خوشخبری
مونیکی نے مزید کہا کہ جب ان کے اہلِ خانہ نے تاوان ادا کیا تو اس کے بعد انہیں ایک دیہی علاقے میں رہا کر دیا گیا۔
مونیکی کے شوہر جنہیں مبینہ طور پر اغوا کاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا سیدھا پولیس اسٹیشن گئے اور مقدمہ درج کروایا سول پولیس نے اسپیشل آپریشنز گروپ کے ذریعے تحقیقات شروع کیں تاکہ ذمہ دار افراد کو پکڑا جا سکے۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو جلد ہی کچھ مشکوک باتیں نظر آئیں فون ریکارڈز سے پتہ چلا کہ مونیکی کا ایک مبینہ اغوا کار سے واقعے سے پہلے اور بعد میں رابطہ تھا اور شواہد کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہیہ اغوا برائے تاوان دراصل مبینہ متاثرہ خاتون اور ایک ملزم کے درمیان ایک منصوبہ تھا۔
تاہم ایک بات واضح تھی کہ مونیکی کے شوہر اس سارے منصوبے میں شامل نہیں تھے اور تحقیقات کے مطابق وہی اصل میں متاثرہوئے تھے وہ نہ صرف اپنی اور اپنی بیوی کی جان کے خطرے میں مبتلا تھے بلکہ اغوا کے دوران انہیں تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
25 مارچ کو اغوا کے تقریباً ایک سال بعد مونیکی فراگا کو بھتہ خوری عدالتی دھوکہ دہی اور جھوٹی پولیس رپورٹ درج کروانے کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے تین مبینہ ساتھیوں میں سے ایک زیر حراست ہے ایک گزشتہ سال ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب مونیکی کے وکیل نے اس معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔




















