اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں کا باضابطہ آغاز کردیا ہے اور کاروباری طبقے سے 30 جنوری 2026 تک بجٹ تجاویز طلب کرلی گئی ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ سازی کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ زمینی حقائق کے مطابق ترجیحات طے کی جاسکیں۔
آئندہ بجٹ میں ایک بڑی انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے ٹیکس پالیسی بنانے کا اختیار ایف بی آر کے بجائے وزارتِ خزانہ کو منتقل کردیا گیا ہے۔
ٹیکس اصلاحات کی مکمل ذمہ داری ٹیکس پالیسی آفس کو سونپ دی گئی ہے جس کا مقصد ٹیکس نظام میں موجود پیچیدگیوں اور ناانصافیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں صنعتوں پر ٹیکس بوجھ کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے کیونکہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ صنعتی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
حکومت برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو بھی بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل کررہی ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر اور مجموعی صنعتی ترقی کو فروغ دینا حکومت کے معاشی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہوگا تاہم ماضی کے تجربات کے پیش نظر یہ ہدف آسان نہیں سمجھا جارہا۔
اسی طرح آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ممکنہ ٹیکس سہولتوں پر بھی غور جاری ہے کیونکہ اس شعبے کو مستقبل کی معیشت کا ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے بجٹ میں ماحول دوست اور سستی توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جب کہ خواتین کی ملازمتوں اور نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے کاروباری اداروں، تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی بجٹ تجاویز ای میل یا بذریعہ ڈاک مقررہ تاریخ تک جمع کرادیں۔


















