گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو ساڑھے 10 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ فیصلہ مختلف معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، جن میں مہنگائی سرفہرست ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آئندہ دو ماہ تک شرح سود ساڑھے 10 فیصد پر برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جون میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ اس وقت مہنگائی کی مجموعی شرح 7.4 فیصد پر برقرار ہے۔
مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا کہ ملک میں ایکسپورٹس میں کمی جبکہ امپورٹس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث معاشی دباؤ بڑھا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسٹرنل اکاؤنٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، تاہم درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے اور مستقبل کی پالیسیز میں معاشی استحکام کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محتاط مانیٹری پالیسی ناگزیر ہے، اسی لیے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
