Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپر ٹیکس: وفاقی آئینی عدالت نے حکومت کو بڑا ریلیف دے دیا

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کو آمدنی پر ٹیکس لگانے کا اختیار تسلیم کرتی ہے

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیخلاف کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کردیں، وفاقی حکومت کو 300 ارب سے زائد کا فائدہ ہوگا۔

بول نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنادیا ہے، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کو آمدنی پر ٹیکس لگانے کا پارلیمنٹ کا اختیار تسلیم کرتی ہے۔

عدالت نے مقدمہ کے قابل سماعت ہونے پر تمام اعتراضات مسترد کر دیے اور انکم ٹیکس قانون کا سیکشن 4C بحال کر دیا، جس کے حوالے سے ہائی کورٹس کے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار پائے۔

مزید پڑھیں: سپر ٹیکس کیس سے متعلق سپریم کورٹ سے بڑی خبر آگئی

مختلف کمپنیوں کے وکلاء، جن میں مخدوم علی خان شامل تھے، نے اپنے جوابی دلائل پیش کیے۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے حافظ احسان کھوکھر اور کمشنر کراچی کی طرف سے ڈاکٹر شاہ نواز جبکہ کمشنر لاہور کی طرف سے عاصمہ حامد پیش ہوئیں۔

سپر ٹیکس کیس کا آغاز 2019 میں سپریم کورٹ میں ہوا اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں بھی سماعتیں جاری رہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیس آئینی بنچ کو منتقل ہوا اور پھر 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہوا۔

عدالت نے واضح کیا کہ مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینولنٹ فنڈز پر ٹیکس نہیں ہو گا اور مختلف کاروباری شعبوں کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں بھی جہاں جہاں رعایت دی گئی تھی، متعلقہ کمشنرز اسے فراہم کریں گے۔

یاد رہے کہ سپر ٹیکس 2015 میں خیبرپختواہ میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت تین سو ملین روپے سے زائد سالانہ منافع کمانے والوں پر 5 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا۔

بعد ازاں سال 2022 میں 150 ملین روپے سالانہ منافع کمانے والوں پر زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ٹیکس نافذ ہوا۔

مختلف کاروباری شخصیات، بنکوں اور کمپنیوں نے اس ٹیکس کو ہائی کورٹس میں چیلنج کیا تھا، خاص طور پر ماضی سے اطلاق اور دہرے ٹیکس کے خدشات کے حوالے سے متاثرہ افراد کو شدید اعتراضات تھے۔