اسلام آباد: پہلے چھ ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی طور پر معاشی استحکام برقرار رہا تاہم براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جب کہ اس عرصے میں سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 81 کروڑ ڈالر رہا۔
اسی مدت میں ملکی برآمدات 5 فیصد کمی کے بعد 15.5 ارب ڈالر تک محدود رہیں جب کہ درآمدات 12.3 فیصد اضافے سے بڑھ کر 31 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق چھ ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ حجم 19.73 ارب ڈالر رہا جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر رہا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ہوا اور شرح تبادلہ 278.7 روپے سے بڑھ کر 279.9 روپے تک پہنچ گیا۔
صنعتی شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلے پانچ ماہ کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت ہے۔
اسی دوران پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے رہا جب کہ ایف بی آر ریونیو میں 9.5 فیصد اضافے کے بعد محصولات 6 ہزار 160 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ نان ٹیکس ریونیو بھی 4.8 فیصد اضافے سے 3581 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر ہوگئے ہیں جب کہ روپے کی قدر مجموعی طور پر مستحکم رہی۔
وزارت خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے اور مہنگائی پر مجموعی طور پر قابو پایا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مالی نظم و ضبط کے باعث معاشی استحکام کو سہارا ملا ہے، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے اور یہ عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل رہی ہے۔
رپورٹ میں مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔


















