Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی آئی اے کی نجکاری؛ کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ طے پاگیا

قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آگئی۔

اسلام آباد: پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔

قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آگئی ہے، جہاں نجکاری کمیشن اور کامیاب کنسورشیم کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔

یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی نجکاری سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی جس کی صدارت فاروق ستار نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل، معاہدے اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن کے مطابق کامیاب کنسورشیم حکومت کے ساتھ اپنا بزنس پلان شیئر کرے گا جب کہ حکومت کی جانب سے اپنا منصوبہ پہلے ہی نئے کنسورشیم کو فراہم کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بزنس پلان کی تیاری مکمل ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی بھی کنسورشیم سے بریفنگ لے سکتی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات اب سول ایوی ایشن اتھارٹی کو منتقل ہوچکے ہیں جب کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے کی جانب سے کامیاب بولی دہندہ کو کلیئرنس بھی دے دی گئی ہے۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ یہ گزشتہ 20 برسوں میں پہلی کامیاب نجکاری ہے جسے ایک بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس سے قبل صرف ’’پچکاری‘‘ ہورہی تھی، اب جاکر حقیقی معنوں میں نجکاری ہوئی ہے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی نعمان اسلام شیخ نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت گزشتہ سال کی بولی پر ہی کھڑی ہے یا اس معاہدے سے کوئی اضافی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پہلو پر بھی واضح بریفنگ دی جائے۔

فاروق ستار نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کمیشن اس پورے عمل کی مانیٹرنگ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کنسورشیم نے کن کن شرائط پر عملدرآمد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی شرائط پر مکمل عملدرآمد کی گارنٹی ہونی چاہیے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے تصدیق کی کہ پی آئی اے کے کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ آج باضابطہ معاہدہ ہوگیا ہے اور نئے مالکان ایئرلائن کے لیے نیا بزنس پلان تیار کررہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے نجکاری کے عمل میں شفافیت، نگرانی اور طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔