پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے جو ملکی معیشت میں موجود دیرپا ساختی مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ دسمبر 2025 میں برآمدات سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد گر کر 2.32 ارب ڈالر رہ گئی جو دسمبر 2024 میں 2.91 ارب ڈالر تھی۔
یہ مسلسل پانچواں مہینہ ہے جس میں برآمدات میں کمی دیکھی گئی اور مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کی مجموعی برآمدات 15.18 بلین ڈالر رہ گئی ہیں جب کہ پچھلے سال اسی مدت میں یہ 16.63 بلین ڈالر تھیں۔
اس دوران تجارتی خسارہ تقریباً 19.2 بلین ڈالر تک بڑھ گیا جو عارضی اتار چڑھاؤ کے بجائے ساختی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹیکسٹائل صنعت
پاکستان کی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی قرار دی جانے والی ٹیکسٹائل صنعت بھی متاثر ہوئی ہے۔ پہلی ششماہی میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات تقریباً 9.19 ارب ڈالر رہیں جو پچھلے سال 9.98 ارب ڈالر تھیں۔
دھاگے، کپڑے اور گارمنٹس کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی اور صرف بڑے برآمدکنندگان جو خود پیداوار کے عمل میں ملوث اور مالی طور پر مستحکم ہیں وہ بچ پاتے ہیں جب کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے یونٹس بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
کپاس کی پیداوار کا منہدم ہونا
اس کمی کی ایک بڑی وجہ ملکی کپاس کی پیداوار کا منہدم ہونا ہے۔ قومی پیداوار 14 ملین بیل سے کم ہوکر سالانہ تقریباً 5–6 ملین بیل تک گرگئی ہے جس کی بنیادی وجوہات خراب بیج، پرانی کاشتکاری کے طریقے اور محدود تحقیقی سہولت ہیں۔
کاشتکار زیادہ منافع بخش اور کم خطرے والی فصل مکئی کی طرف منتقل ہوگئے ہیں جس سے ملکی کپاس کی فراہمی مزید کم ہوئی۔ نتیجتاً صنعت کو درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑا جس سے پیداواری لاگت بڑھی اور مسابقت متاثر ہوئی۔
زرعی برآمدات
زرعی برآمدات بھی دباؤ میں ہیں۔ چاول جو پاکستان کی دوسری بڑی برآمدی فصل ہے۔ ادارہ شماریات ک مطابق پہلی ششماہی کے دوران چاول کی برآمدات میں 25–30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ کچھ مہینوں میں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی سال بہ سال 30 فیصد سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
2025 میں آنے والے سیلابوں نے پنجاب اور سندھ کی فصلوں کو کافی نقصان پہنچایا جس سے برآمدی اضافی مقدار شدید کم ہوئی۔ ادارہ شماریات بتاتے ہیں کہ چاول کی برآمدات اب پچھلے 5.5–5.7 ملین ٹن کے سطح سے نیچے ہیں جو مالی سال 2024-25 میں تقریباً 3.6–3.8 بلین ڈالر کی آمدنی دیتی تھیں۔
زرعی قیمتوں کی پالیسیاں نقصان کا باعث
زرعی قیمتوں کی پالیسیاں پیداوار کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں۔ مثال کے طور پر گندم کسانوں سے سرکاری خریداری قیمت 2,300 روپے فی 40 کلوگرام پر خریدی گئی لیکن بعد میں مارکیٹ قیمت 4,000 روپے فی 40 کلوگرام سے تجاوز کرگئی۔ یہ فرق زرعی سرمایہ کاری کو کمزور کرتا ہے اور طویل مدتی برآمدی صلاحیت کم کرتا ہے۔
سروسز کا شعبہ
سروسز کے شعبے میں بھی تجارتی خسارہ ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق نومبر 2025 میں سروسز کی برآمدات 3,034.6 ملین ڈالر رہیں جب کہ درآمدات 4,195.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جس سے 1,161.2 ملین ڈالر کا تجارتی خسارہ پیدا ہوا۔
یہ خسارہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف مصنوعات کی برآمدات میں ہی مشکلات کا شکار نہیں بلکہ سروسز کے حساب میں بھی عدم توازن موجود ہے۔
آئی ٹی کا شعبہ
آئی ٹی اور دیگر ڈیجیٹل خدمات میں بھی محدود ترقی ہوئی۔ ادارہ شماریات نے آئی ٹی کی سرکاری برآمدات کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی ہیں لیکن تخمینی اندازے کے مطابق سالانہ آئی ٹی کی برآمدات تقریباً 2.6–2.8 بلین ڈالر ہیں۔
تاہم غیر ملکی سافٹ ویئر، پلیٹ فارمز اور کلاؤڈ سروسز پر انحصار، انٹرنیٹ کی سست روی، ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور بنیادی ڈھانچے کی حدود نے اس شعبے کی بین الاقوامی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا ہے۔
تمام شعبوں میں برآمدکنندگان کو بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہے۔ بلند سود کی شرح، مہنگی توانائی، فیول اور کھاد کی قیمتیں، اور بھاری ٹیکس سرمایہ کاری کو متاثر کررہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے کاروباروں میں۔
برآمدات بڑھاؤ کا مطالبہ حقیقت سے دور
اسی تناظر میں صرف ’’برآمدات بڑھائیں‘‘ کہنا عملی حقیقت سے دور ہے۔ خام مال کی فراہمی کم ہورہی ہے، زرعی پیداوار کم ہو رہی ہے، سروسز خسارے میں ہیں اور پیداوار کی لاگت زیادہ ہے تو توقع کرنا کہ زیادہ سامان بیچا جائے ایسے ہی ہے جیسے کسی سے وہ چیزیں بیچنے کو کہا جائے جو اس کے پاس نہیں ہیں۔
برآمدات میں پائیدار اضافہ تب ہی ممکن ہے جب بنیادی مسائل حل ہوں، جیسے کپاس اور زرعی پیداوار کو بحال کرنا، قیمتوں میں درستگی، پیداوار اور فنانسنگ کی لاگت کم کرنا، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مضبوط کرنا اور پالیسی میں استحکام یقینی بنانا۔
جب تک یہ بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے بڑے برآمدی اہداف صرف نعروں تک محدود رہیں گے اور حقیقی کامیابی نہیں حاصل کرپائیں گے۔


















