ملک میں مہنگائی کا دباؤ ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے، جہاں جنوری 2026 کے دوران افراطِ زر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں مہنگائی بڑھ کر 5.8 فیصد ہو گئی، جبکہ دسمبر 2025 میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔
مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ اشیائے خورونوش، خصوصاً سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں غذائی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 7.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
جاری مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ میں اوسط مہنگائی 5.24 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 6.5 فیصد کے مقابلے میں کم ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ اضافے کے رجحان نے خدشات کو جنم دیا ہے۔
مہنگائی میں اضافے کے نتیجے میں حقیقی شرحِ سود میں 20 بیسس پوائنٹس کی کمی بھی سامنے آئی ہے۔
شہری علاقوں میں کور مہنگائی 7.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح مزید بڑھ کر 8.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ کور مہنگائی میں ماہانہ بنیادوں پر بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ادھر گھروں کے کرایوں میں اضافے کے باعث ہاؤسنگ انڈیکس 7.3 فیصد بڑھ گیا، جس نے شہری طبقے پر مالی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اگرچہ مجموعی مہنگائی گزشتہ سال کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، تاہم قیمتوں پر دباؤ اب بھی برقرار ہے اور آئندہ مہینوں میں مہنگائی کے رجحان پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
















