اسلام آباد: نیپرا نے حکومتی درخواست پر بجلی نرخوں میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ جاری کردیا ہے جس کے تحت صنعتی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے اس کا بوجھ پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر منتقل کردیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق ملک بھر میں 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کردیے گئے ہیں۔ اس سے قبل فکسڈ چارجز صرف 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو تھے۔
ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے جب کہ اسی کیٹیگری کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے فکسڈ چارجز عائد ہوں گے۔ 200 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز 300 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
300 یونٹ تک استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے۔ 400 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے فکسڈ چارجز میں 200 روپے اضافے کے بعد 400 روپے مقرر کیے گئے ہیں جب کہ 500 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے 100 روپے اضافے کے بعد یہ رقم 500 روپے ہوگی۔
600 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے فکسڈ چارجز 75 روپے اضافے کے بعد 675 روپے کردیے گئے ہیں۔ تاہم 700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 125 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارجز 675 روپے مقرر کیے گئے ہیں جب کہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر بھی 325 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارجز 675 روپے کردیے گئے ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے صنعتی صارفین پر عائد 101 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کردی ہے۔ صنعتی شعبے کے لیے بجلی چار روپے چار پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی ہے جس کے بعد بنیادی ٹیرف 33 روپے 58 پیسے سے کم ہوکر 29 روپے 54 پیسے رہ گیا ہے۔


















