Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹیکس ہدف کے حصول میں مشکلات، کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کا فیصلہ

ایف بی آر کو جولائی تا جنوری 372 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے

رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں شارٹ فال کے بعد ٹیکس ہدف کم کرانے کیلئے عالمی مالیاتی ادارے سے بات چیت کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جولائی تا جنوری 372 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق سات ماہ میں ایف بی آر کی وصولیاں 7,147 ارب روپے رہیں جبکہ ہدف 7,521 ارب روپے تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے مجموعی ٹیکس ہدف میں 50 سے 100 ارب روپے تک کمی کی ورکنگ مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا سُپر ٹیکس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار، فوری ریکوری کا مطالبہ

اقتصادی جائزہ مذاکرات میں ٹیکس ڈیٹا پر خصوصی بات چیت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق موجودہ ہدف 13,979 ارب روپے سے کم کر کے 13,879 ارب روپے تک لانے کی درخواست کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق جولائی تا جنوری مہنگائی اور معاشی ترقی کی رفتار کے مطابق ٹیکس آمدن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ حکومتی سطح پر ہدف میں کمی کی تجاویز پر اعلیٰ سطح مشاورت بھی مکمل ہو چکی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق 30 جون تک کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا، اس لیے منی بجٹ لائے بغیر ہدف حاصل کرنے کیلئے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سپر ٹیکس سے رواں مالی سال میں 217 ارب روپے وصولی کا امکان ہے، جبکہ جولائی تا جنوری 340 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔