ڈیری فارمرز نے موجودہ معاشی اور مبینہ جنگی صورتحال کے پیشِ نظر دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 120 روپے اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
فارمرز کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث چارے کی نقل و حمل، مشینری اور فارم کے دیگر اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ڈیری فارمرز کے نمائندوں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اثر براہِ راست صنعت پر پڑا ہے، جبکہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے فی لیٹر تقریباً 70 روپے کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی میں بکنے والے دودھ میں کیا کچھ ملایا جا رہا ہے؟ ہوش اڑا دینے والا انکشافات
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کے اثرات فوری طور پر منتقل کیے جاتے ہیں، لیکن دودھ کی صنعت کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔
ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) کے عہدیدار شاکر گجر نے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کی نئی قیمت 320 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ سپلائی روکنے اور دیگر اقدامات پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
فارمرز نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ صنعت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں اور پیداواری لاگت کے مطابق قیمتوں کا تعین کیا جائے۔



















