فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ملک میں فوری طور پر انرجی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اور شرحِ سود بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جس کے باعث کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک غیر مسابقتی اضافہ صنعت اور تجارت کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شرحِ سود 10.5 فیصد پر برقرار رہنے سے صنعت اور سرمایہ کاری شدید متاثر ہو رہی ہے اور کاروباری سرگرمیاں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پاس اس وقت صرف 28 دن کے پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں، جو کسی طویل تنازع کی صورت میں ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث میرین انشورنس اور فریٹ چارجز میں 300 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ایل این جی شپنگ فریٹ ریٹس میں بھی 40 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث پاکستانی برآمدات کی ترسیل میں 15 سے 20 دن تک تاخیر کا خدشہ ہے، جبکہ برآمدات پہلے ہی سست روی کا شکار ہیں۔
ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی سطح پر اسٹریٹجک آئل ریزرو قائم کر کے پیٹرولیم ذخائر کو 60 سے 90 دن تک بڑھایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
تنظیم نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ تجارت اور صنعت کے تحفظ کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی میں نجی شعبہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔



















