پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا دوسرا راؤنڈ بھی مکمل ہو گیا ہے جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں اضافی ڈیمانڈ دیکھنے کو آئی ہے اور اس کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں سات لاٹس پر اضافی بولی موصول ہوئی جبکہ کسی آپریٹر نے دو لاٹس کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس اضافی بولی کے بعد اگلے راؤنڈ میں اس بینڈ کی بولی کا عمل جاری رہے گا۔
پی ٹی اے کے مطابق 700 میگا ہرٹز بینڈ میں دو لاٹس کی بولی موصول ہوئی ہے اور اس بینڈ کے حوالے سے عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
یہ اقدامات فائیو جی کی ٹیکنالوجی کے لیے اسپیکٹرم کی منصفانہ تقسیم اور ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے مواقع فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں تیز رفتار ڈیجیٹل کنیکٹوٹی ممکن ہو سکے۔
پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے پہلے راؤنڈ کا عمل مکمل
ڈی جی پی ٹی اے عامر شہزاد کے مطابق پہلے راؤنڈ میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا۔
پی ٹی اے کے مطابق 2600 میگا ہرٹز بینڈ کے 19 لاٹس کے لیے 30 بولیاں موصول ہوئی ہیں، جس میں 11 لاٹس پر اضافی بولیاں آئیں۔ اس اضافی بولی کی وجہ سے 2600 میگا ہرٹز بینڈ کی نئی قیمت طے کی جائے گی۔
اسی طرح 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 280 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا، اور 28 لاٹس میں سے 20 لاٹس پر بولی لگی۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پہلے راؤنڈ میں دستیاب 6 بینڈز میں سے دو بینڈز پر بولی لگائی گئی۔
پی ٹی اے کے مطابق دوسرا راؤنڈ کچھ وقت بعد شروع ہوگا اور یہ تقریباً آدھے گھنٹے پر محیط ہوگا۔ پہلے راؤنڈ کے نتائج کے بعد ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے بولی کے اگلے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔
افتتاحی تقریب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے شرکت کی جبکہ چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب میں چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ آج وہ دن آ گیا ہے، جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا اور اسپیکٹرم کی نیلامی کو ممکن بنانے کیلئے تمام اداروں کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سپیکٹرم کی دستیابی سب سے بڑا چیلنج تھا جسے پی ٹی اے اور ایلوکیشن بورڈ کی مشترکہ کوششوں سے ممکن بنایا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 5G دراصل پاکستان کی ڈیجیٹل ہائی وے اور معیشت کا انجن ہے اور آج پاکستان کیلئے ایک تاریخی دن ہے جس سے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔
حکومت نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے رائٹ آف وے چارجز 36 ہزار روپے فی کلومیٹر سے کم کر کے صفر کر دیئے ہیں، جس کے بعد پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یہ فیس ختم کی۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کی سہولت کیلئے حکومت نے ہر ممکن اقدام کیا ہے اور اب امید ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں نیلامی میں بھرپور حصہ لیں گی۔ چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق 5G ٹیکنالوجی بلاک چین اور مصنوعی ذہانت جیسی نئی صنعتوں کیلئے راستہ ہموار کرے گی جبکہ اسپیکٹرم کی نیلامی سے آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
تقریب میں بتایا گیا کہ نیلامی کا پہلا راؤنڈ 60 منٹ کیلئے ہوگا جبکہ بولی میں اہل تین ٹیلی کام کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ پی ٹی اے نے نیلامی کیلئے مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پیش کیا ہے جس سے ملک میں کنیکٹوٹی اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں 5G سروس کے آغاز کیلئے اسپیکٹرم کی نیلامی آج کرنے کا اعلان کر دیا۔
پی ٹی اے کے مطابق نیلامی سے نہ صرف 5G سروس متعارف ہوگی بلکہ ملک بھر میں 4G سروسز کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ نیلامی کے بعد بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جلد 5G انٹرنیٹ سروس دستیاب ہونے کا امکان ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کیلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اس مقصد کیلئے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کیلئے حتمی انفارمیشن میمورنڈم جاری کر دیا گیا
پی ٹی اے کے مطابق آکشن کا عمل لائیو ہوگا اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے خصوصی سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ ٹیلی کام کمپنیوں کی موجودگی میں سافٹ ویئر کی ٹیسٹنگ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
نیلامی کیلئے پیش کیے جانے والے بینڈز میں دو 5G بینڈز شامل ہوں گے جبکہ اس وقت ملک میں مجموعی طور پر 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ آپریٹرز کیلئے نیلامی میں کم از کم 100 میگا ہرٹز اسپیکٹرم خریدنے کی شرط رکھی گئی ہے تاکہ سروس کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
اتھارٹی کے مطابق رائٹ آف وے کی فیس 3600 ہزار روپے سے کم کر کے صفر کر دی گئی ہے جس سے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بہتری میں مدد ملے گی۔


















