Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قطر سے گیس سپلائی معطل، 14 اپریل کے بعد قلت کا خدشہ

مارچ میں گیس کے 8 کارگوز میں سے صرف 2 ہی پاکستان پہنچ سکے ہیں، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

حکام کے مطابق قطر سے گیس کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہوچکی ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں صورتحال چیلنجنگ ہوسکتی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ قطر سے گیس کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے جس کے باعث آئندہ دنوں میں ملک میں گیس کی صورتحال چیلنجنگ ہو سکتی ہے۔

ڈی جی مائع گیس نے بریفنگ میں بتایا کہ موجودہ صورتحال میں ملک میں مقامی گیس کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے جبکہ ابھی تک گیس کی طلب بجلی کے شعبے سے زیادہ نہیں ہوئی۔

حکام کے مطابق مارچ میں گیس کے 8 کارگوز میں سے صرف 2 پاکستان پہنچ سکے جبکہ جنگی صورتحال کے باعث 6 کارگوز نہیں آ سکے۔ اپریل میں بھی 6 میں سے 3 کارگوز نہ آنے کا خدشہ ہے اور اگر صورتحال یہی رہی تو 14 اپریل کے بعد گیس کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: سوئی سدرن گیس کمپنی کے منافع میں 82 فیصد کمی

بریفنگ کے مطابق ہنگامی پلان کے تحت سسٹم گیس سپلائی 655 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم کر کے 642 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز ہے جبکہ آر ایل این جی سپلائی 28 سے بڑھا کر 30 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس طرح مجموعی گیس سپلائی 683 سے کم ہو کر تقریباً 672 ایم ایم سی ایف ڈی رہنے کا امکان ہے۔

حکام نے بتایا کہ گھریلو صارفین کے لیے گیس کا استعمال 399 سے بڑھا کر 420 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی منصوبہ بندی ہے جبکہ کمرشل سیکٹر کی کھپت 10 سے کم کر کے 8 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح پراسیس انڈسٹری کے لیے گیس 140 سے کم کر کے 120 ایم ایم سی ایف ڈی، کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے 82 سے کم کر کے 70 ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ پاور سیکٹر کے لیے گیس فراہمی 18 سے بڑھا کر 20 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز ہے۔

بریفنگ کے مطابق کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس سپلائی 29 سے بڑھا کر 30 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ اگر ایل این جی کی طلب مزید بڑھی تو آذربائیجان کی کمپنی کے ساتھ بھی معاہدہ موجود ہے، تاہم وہاں سے ایل این جی تقریباً تین گنا مہنگی پڑے گی۔