رانا تنویر حسین کی زیر صدارت کھاد جائزہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں کھاد کی دستیابی، طلب و رسد اور آئندہ فصلوں کے لیے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ربیع سیزن 2025–26 کے دوران یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی وافر دستیابی برقرار رہی، جس سے کسانوں کو بروقت ضروری کھاد میسر آئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خریف 2026 کے لیے بھی کھاد کی مناسب مقدار کے ساتھ بفر اسٹاک موجود ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں 19 سے 20 فیصد حصہ ڈال رہا ہے اور اس کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوریا اور ڈی اے پی کی طلب و رسد میں توازن برقرار ہے اور کھاد کا شعبہ اپنی مضبوط پیداواری صلاحیت کے ساتھ فعال انداز میں کام کر رہا ہے۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک میں کھاد کی مقامی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ کسانوں کو مناسب قیمتوں پر کھاد کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھاد کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ شفافیت اور بروقت فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کھاد کی مسلسل فراہمی سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے اور حکومت کسانوں کی معاونت اور زرعی معیشت کے استحکام کے لیے پرعزم ہے۔



















