Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

درختوں کی شاخیں کاٹنے کی اجازت کس نے دی؟ جسٹس شاہد کریم کا استفسار

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ درختوں کی شاخیں کاٹنے کی اجازت کس نے دی۔

جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں درختوں کی کٹائی پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔

عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ اگر کسی ناگزیر وجہ سے درخت کاٹنا یا شاخیں تراشنا ہوں تو اس کے لیے ڈی جی پارکس کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔

جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا کہ ناصر باغ کو اس کی تاریخی حیثیت کے مطابق اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

سماعت کے دوران پی ایچ اے کے وکیل حارث عظمت عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ درختوں کی کٹائی میں ملوث ڈائریکٹر پراجیکٹ سمیت تین اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، ان افسران کو پی ایچ اے سے فارغ کر کے پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

وکیل پی ایچ اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ داتا دربار کے قریب درخت کاٹنے پر ٹیپا پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ شہر کے 800 پارکس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ماحولیاتی کمیشن کے رکن کمال حیدر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اسپتال کے قریب 35 سال پرانے ایک درخت کی شاخیں کاٹی گئیں، جو تقریباً 20 فٹ چوڑا تھا، جس کی شاخوں کے سائز کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، اس واقعے کے ذمہ دار دو افسران اور ایک مالی کو معطل کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی ایچ اے لاہور برانچ کینال کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید حامد، فیلڈ اسٹاف سپروائزر ظفر اقبال اور مالی عقیل حسین کو بھی معطل کیا گیا ہے۔

 عدالت کو بتایا گیا کہ 35 سالہ درخت کی شاخیں کاٹنے پر تینوں افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

تاہم، جسٹس شاہد کریم نے کیس کی مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔