Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کرسکتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا سندھ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ شناختی کارڈ کسی بھی شہری کے لیے لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کی بنیادی ضرورت ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا اس کے بنیادی انسانی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ کیا مستقبل میں عدالتیں رقم کی وصولی کے لیے بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کے احکامات بھی جاری کریں گی؟

فیصلے کے مطابق ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں، واضح قانونی شق کے بغیر کوئی بھی عدالت شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کی سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ 2016 میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا اور عدم ادائیگی پر اس کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا، جسے بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔