پاکستان کی معروف گلوکارہ مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے 13 برس بیت گئے۔
19 جنوری 2013ء کو جہانِ فانی سے کوچ کرجانے والی مہناز بیگم کی آواز آج بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے اور وہ اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
مہناز بیگم پاکستان کی وہ باصلاحیت گلوکارہ تھیں جن کی آواز میں گیتوں نے فلمی پردے کے شائقین، ریڈیو کے سامعین اور ٹیلی ویژن کے ناظرین کو گویا اپنے سحر میں جکڑ لیا۔
مہناز 1958ء کو کراچی میں مشہور مغنیہ کجن بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام کنیز فاطمہ تھا۔
مہناز بیگم نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور طربیہ و المیہ ہر قسم کے گیت گائے اور غزل کے علاوہ سلام و مرثیہ بھی اپنے مخصوص انداز سے پڑھا اور مقبول ہوئیں۔
ان کے استاد امراؤ بندو خان کے بھتیجے نذیر تھے جنہوں نے انہیں مہناز کا نام دیا۔ گلوکارہ نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن خان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔
مہناز نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے، حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اور انہیں ان کی گائیگی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
واضح رہے کہ مہناز بیگم کو فلمی گلوکاری پسند نہیں تھیں بلکہ وہ اسٹیج شوز پر پرفارمنس پسند کرتیں کیونکہ وہاں فوراً داد جو مل جاتی۔

















