شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایا علی نے رمضان المبارک کے دوران مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔
اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں حکومت اور عوام دونوں کو یاد دلایا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے حالات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ بعض اوقات معاشی یا سیاسی حالات کے باعث حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، خصوصاً اگر ملک کسی غیرمعمولی صورتحال سے گزر رہا ہو، لیکن ان فیصلوں کے اثرات کمزور طبقے پر زیادہ پڑتے ہیں۔
مایا علی کے مطابق بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی آمدن روزانہ کی محنت پر منحصر ہوتی ہے اور ان کے پاس صرف موٹر سائیکل ہی ذریعۂ سفر ہوتا ہے۔ جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر ان افراد کی روزی روٹی پر پڑتا ہے جو روزانہ سفر کر کے کام کرتے ہیں۔
View this post on Instagram
اداکارہ نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو کسی حد تک ریلیف کی توقع ہوتی ہے کیونکہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ کئی افراد کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ بڑھتی قیمتوں کا بوجھ آسانی سے برداشت کر سکیں۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے ایندھن کے ذخائر کے بارے میں دی جانے والی وضاحت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر واقعی پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر صرف چند دن کے لیے باقی ہیں تو قیمتوں میں اچانک اضافہ اس مسئلے کو کیسے حل کر سکتا ہے۔
مایا علی نے سوال کیا کہ کیا پیٹرول مہنگا کرنے سے اس کی سپلائی فوری طور پر بڑھ جائے گی؟
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے مزید کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں اور اس مقدس مہینے میں انہیں مزید مالی مشکلات کے بجائے کچھ ریلیف ملنا چاہیے۔















