روایتی علاج اور ٹوٹکے بھی آپ کو کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رکھ سکتے


محمد طیبویب ایڈیٹر

14th March, 2020
روایتی علاج اور ٹوٹکے بھی آپ کو کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رکھ سکتے

کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے ، سوشل میڈیا گروپ  کے افراد کو مختلف مشورے ، “ٹوٹکے” اور گھریلو علاج سوجھ رہے ہیں۔

 موجودہ وباء کے پیش نظر بہت سے قارئین خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ بعض افراد اس وبا کے بڑے نقصان سے بچنے کے لئے اپنی اپنی رائے کے ذریعے  گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وبا٫ کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔ کوویڈ ۔19 انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے، قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) نے جمعہ کی شام ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں بند کرنے، سفری پابندیوں اورعوامی اجتماعات پر پابندی سمیت بہت سے اقدامات متعارف کرائے۔

جبکہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے کے لئے جدوجہد کر نی پڑ رہی ہے کہ یہ وائرس کیسے کام کرتا ہے، بہت سے بے چین پاکستانیوں نے انفیکشن کی روک تھام کے لئے اپنے نکات اور چالوں کو استعمال  کرنا شروع کردیا ہے۔

چند افراد کا  کہنا ہے کہ تمباکو نوشی ایک خطرنا ک عمل ہے جو پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے، اوریہی وجہ ہے جو کورونا وائرس کا سبب بن رہی ہے۔

  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کم سے کم 20 سیکنڈ تک اچھِی طرح سے ہاتھ دھونا اس وائرس کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہے۔

دوسری جانب  پیاز طاقتور اینٹی بائٹک اشیا٫ کی حیثیت سے گھریلو علاج کے ٹوٹکوں  کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ مظفر پاشا، ایک میڈیکل طالب علم نے کہا کہ میری دادی  پیاز کے ساتھ ابلا ہوا پانی پینے پر زور دیتی ہیں۔ “انہوں نے کہا کہ یہ وائرس سے لڑے گا کیونکہ پیاز قوت ِ مدافعت  بٹرھانے کے لئے مفید ہے ۔”

کروناوائرس وضو سےدورہوسکتاہے،چینی ڈاکٹرحیران

لیکن کچھ صارفین کے مطابق  یہ سب ٹوٹکے اس انفیکشن  کو ٹھیک نہیں کر سکتے، جن میں سے ایک صارف ڈاکٹر مہرین مجتبیٰ کے مطابق ، تاہم ، “یہ ایک وائرل انفیکشن ہے، پیاز کی کوئی مقدار، کیلونجی (سونف) یا کلونجی ملی چائے، گرم  پانی سے غسل، شراب نوشی، اس وائرس سے نہیں بچا سکتے ۔”

کچھ دوسرے سوشل میڈیا  پر وائرل ہونے والے  ٹوٹکوں میں سوئمنگ اس وائرس سے نجات دلا سکتی ہے،  کیوں کہ افواہوں کے مطابق پانی میں موجود کلورین وائرس کو ہلاک کرتی ہے۔

لیکن ڈاکٹر مجتبیٰ اس سے متفق نہیں ہیں۔انہوں نے کہا ، “وائرس ناک ، منہ کی چپچپا جھلیوں کے ذریعے خون کے بہاؤ میں داخل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے سوئمنگ پولز میں کلورین ہوتا ہے ، گرم پانی کے حمام کسی کو بھی انفیکشن سے نہیں روک سکتے ہیں۔”

دیگر عام نکات میں یہ یقین شامل ہے کہ سگریٹ نوشی کرنا بھی شامل ہے کہ جیسے یہ مچھروں کو دور کرتا ہے اس سے یہ وائرس کو بھی دور کردے گا۔

تاہم ، اس طرح کام  کرنے سے یہ وائرس ختم  نہیں ہوتا ہے۔ تو اگر آپ بیمار ہیں تو دوسروں کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے گھر پر ہی رہیں۔ اگر آپ  کو بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کا سامنہ کرنا پڑرہا ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔