مائیں جو غذائیں کھاتی ہیں ان کا براہ راست اثر مادر رحم میں پلنے والے بچے پر ہوتا ہے تاہم اب ایک نئی تحقیق میں اس بات کا انشکاف کیا گیا ہے کہ بچے ماؤں کی کھائی جانے والی غذاؤں کے ذائقے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کی جانب سے جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہا کہ مادر رحم میں بچے گاجر کے کو پسند کرتے ہیں تاہم ہرے پتوں والی سبزیوں کو نہیں۔ واضح رہے کہ وہ اپنے چہروں کے ردعمل سے پسند اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔
شمال مشرقی انگلینڈ میں ڈرہم یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے یہ نتائج اس بات کا پہلا براہ راست ثبوت ہیں کہ بچے پیدا ہونے سے پہلے مختلف خوشبوؤں اور ذائقوں پر مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے 100 حاملہ خواتین کے 4 ڈی الٹراساؤنڈ اسکینوں کے ذریعے سامنے آنے والے ڈیٹا کا مطالعہ کیا اور دریافت کیا کہ جب ماؤں کو گاجرکھلائی گئی تو اس کے ذائقوں کے سامنے آنے والے بچوں نے ’’ہنسی کے چہرے‘‘ کے ردعمل ظاہر کیے۔

اس کے برعکس جب ماؤں کو ہرے پتے والی سبزیاں کھلائی گئی تو اس کے ذائقوں کے سامنے آنے والوں نے زیادہ ’’رونے والی صورت‘‘ کا رد عمل پیش کیا۔

لیڈ پوسٹ گریجویٹ محقق بیزا استن نے کہا ’’متعدد مطالعات سے بات ثابت ہوچکی بچے مادر رحم میں ذائقہ محسوس اوربو سونگھ سکتے ہیں‘‘لیکن یہ مطالعات پیدائش کے بعد کے نتائج پر مبنی ہیں جب کہ ہماری تحقیق پیدائش سے پہلے ان ردعمل کو دیکھنے والی پہلی تحقیق ہے۔
نتیجے کے طور پر، ہم کسی قدر یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ پیدائش سے پہلے ذائقوں کا یہ بار بار اظہار پیدائش کے بعد کھانے کی ترجیحات کو قائم کرنے میں یہ عمل کتنا اثر انداز ہوسکتا ہے، مادر رحم میں اس طرح کا رد عمل صحت مند کھانے کے بارے میں ایک طرح کی پیغام رسانی، بچوں کو دودھ چھڑاتے وقت ‘کھانے کی ترغیب دلانے اور بے چینی’ سے بچنے کے امکانات کو کم کرنے کے بارے ایک نئی سوچ پیدا کرتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں نے مختلف ذائقوں پر ردعمل کا اظہار کس طرح کیا؟
محققین کا خیال ہے کہ یہ جنین میں یہ رحم میں امینیٹک سیال کو سانس لینے اور سونگھنے کے نتیجے میں سامنے آیا ہو۔
جرنل سائیکولوجیکل سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ڈرہم کی فیٹل اینڈ نیونٹل ریسرچ لیب اور برمنگھم، وسطی انگلینڈ میں آسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے علاوہ فرانس کے شہر برگنڈی میں نیشنل سینٹر فارسائنٹیفک ریسرچ کی ایک ٹیم بھی شامل تھی۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ نتائج انسانی ذائقہ اور بو کے رسیپٹرز کے ساتھ ساتھ خیال اور یادداشت کی نشوونما کے بارے میں سمجھ کو گہرائی تک لے جا سکتے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف، آسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جیکی بلیسیٹ نے کہا: ’’یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ رحم میں بار باران ذائقوں کی نمائش مستقبل میں ان ترجیحات کا باعث بن سکتی ہے جو پیدائش کے بعد تجربہ کیے گئے ہوں۔
’’دوسرے لفظوں میں، جنین کو کم ‘پسند’ ذائقوں، جیسے کیلے، کے سامنے لانے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ یوٹرس یعنی بچہ دانی ہی میں ان ذائقوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔
’’اگلا مرحلہ میں یہ جانچنا ہے کہ آیا جنین وقت کے ساتھ ساتھ ان ذائقوں کے بارے میں کم ‘منفی’ ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جب بچے پہلی بار رحم سے باہر انہیں چکھتے ہیں تو ان ذائقوں کو زیادہ جلدی قبول کر لیتے ہیں۔‘‘




















