ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد اگر اپنی خوراک میں ایک بنیادی مگر سادہ تبدیلی کرلیں تو نہ صرف جسمانی چربی میں واضح کمی آسکتی ہے بلکہ جسم کا قدرتی نظامِ توانائی بھی بہتر ہوسکتا ہے۔
طبی غذائیت سے متعلق ایک معتبر جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فیکٹریوں میں تیار کی جانے والی انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا کم استعمال صحت پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔
ایسی غذائیں عام طور پر گھروں میں تیار نہیں ہوتیں اور ان میں ذائقہ بڑھانے والے اجزاء، رنگ، محفوظ رکھنے والے کیمیکل اور دیگر مصنوعی عناصر شامل ہوتے ہیں۔
پیک شدہ اسنیکس، تیار کھانے اور بعض گوشت کی مصنوعات اس کی عام مثالیں ہیں۔
اس تحقیق کے لیے پینسٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو منتخب کیا گیا جن میں سے کئی افراد زائد وزن یا شوگر اور کولیسٹرول جیسے مسائل کا شکار تھے۔
شرکا کو دو مختلف غذائی منصوبوں پر رکھا گیا جن میں آٹھ آٹھ ہفتوں تک انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال بہت کم رکھا گیا۔
ایک خوراک میں لین گوشت شامل تھا جب کہ دوسری خوراک میں سبزیاں، دودھ اور انڈوں کو شامل کیا گیا۔ دونوں غذاؤں کے درمیان دو ہفتے کا وقفہ دیا گیا جس میں شرکا نے معمول کی خوراک استعمال کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شرکا کو نہ تو کیلوریز کم کرنے کا کہا گیا اور نہ ہی ورزش میں تبدیلی کی ہدایت دی گئی۔ اس کے باوجود جب انہوں نے پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال کم کیا تو قدرتی طور پر کم کھانا شروع کیا، وزن میں کمی آئی اور خاص طور پر پیٹ کی چربی کم ہوئی۔
اس کے ساتھ ساتھ جسم میں شوگر کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت بڑھی، کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوئی، سوزش کی علامات میں کمی آئی اور وہ ہارمونز بہتر ہوئے جو بھوک اور توانائی کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ فوائد گوشت والی اور سبزیوں والی دونوں خوراکوں میں یکساں دیکھے گئے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کی خوراک کا نصف سے زیادہ حصہ انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں پر مشتمل ہوتا ہے جو موٹاپے اور دل کی بیماریوں جیسے مسائل سے جڑی ہوئی ہیں۔
عمر رسیدہ افراد کے لیے میٹابولزم کی بہتری نہ صرف صحت بلکہ خودمختاری اور معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔




















