سخت غذائی پرہیز کے بارے میں ہمارا خیال غلط تھا کیونکہ دہائیوں پر محیط تحقیق نے نئے انکشافات کردیے۔
وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد عموماً سخت غذائی پرہیز یا مختصر مدت کے چیلنجز اپنانے کا سوچتے ہیں، اس امید پر کہ اس سے تیزی سے فرق پڑے گا۔
تاہم نفسیات اور جسمانی سائنس کی دہائیوں پر محیط تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اس طرح کے سخت پرہیز نہ صرف اپنانا مشکل ہوتے ہیں بلکہ طویل مدت میں مؤثر بھی ثابت نہیں ہوتے۔
تحقیق کے مطابق غذائی پرہیز کے ذریعے وزن کم کرنے والے صرف بہت کم افراد ہی طویل عرصے تک اپنا وزن برقرار رکھ پاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سخت پرہیز میں پسندیدہ غذاؤں پر مکمل پابندی لگادی جاتی ہے۔
یہ غذائیں دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتی ہیں جو خوشی اور تسکین سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب یہ خوشی اچانک ختم ہوجاتی ہے تو شدید خواہشات جنم لیتی ہیں، چاہے انسان کو بھوک نہ بھی لگی ہو۔
یہ غذائی خواہشات اکثر ذہنی دباؤ، تھکن اور کمزور ارادے کے اوقات میں زیادہ شدت اختیار کرلیتی ہیں، خاص طور پر دن کے آخری حصے میں اور یہی خواہشات پرہیز کے دوران زیادہ کھانے کا باعث بنتی ہیں۔
مطالعات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جن غذاؤں سے جان بوجھ کر پرہیز کیا جائے، ان کی طلب مزید بڑھ جاتی ہے جس سے سخت پرہیز اکثر ناکام ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات وزن دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔
بار بار ناکامی انسان کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے آئندہ صحت مند تبدیلیاں اپنانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
غذائی ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ انتہائی کم غذائی مقدار والے پرہیز جسمانی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے میں جسم بھوک کے سگنل بڑھا دیتا ہے، توانائی کے استعمال کو کم کردیتا ہے اور انسان کو زیادہ کھانے پر مجبور کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے آہستہ، متوازن اور مستقل طریقہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے لیے پرہیز کرنے کے بجائے غذاؤں میں بہتری لانے پر توجہ دی جائے۔ پروٹین اور ریشے دار غذائیں دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتی ہیں اور مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ چھوٹی مگر مستقل تبدیلیاں، حقیقت پسندانہ اہداف، منصوبہ بندی اور دوستوں یا اہلِ خانہ کا ساتھ طویل مدت میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یوں وقتی اور سخت پرہیز کے بجائے سائنسی بنیادوں پر مبنی طرزِ زندگی اپناکر پائیدار نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔




















