Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دوران حمل فالج خواتین میں دل کے امراض اور ڈپریشن کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، تحقیق

تحقیق میں 97 ایسی خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں حمل یا زچگی کے بعد تین ماہ کے اندر فالج ہوا

حمل کے دوران یا زچگی کے بعد ابتدائی تین ماہ میں فالج کا شکار ہونے والی خواتین کو آئندہ زندگی میں دل کے امراض، دوبارہ فالج اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ انکشاف امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے، جو 21 جنوری 2026 کو شائع کی گئی۔

تحقیق کے مطابق اس دوران ہونے والا اسکیمک فالج، جو فالج کی سب سے عام قسم ہے اور دماغ تک خون کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث ہوتا ہے، خواتین کی طویل المدتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ حمل یا زچگی کے فوراً بعد فالج کا شکار ہونے والی خواتین میں مستقبل میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

فن لینڈ کے ہیلتھ کیئر رجسٹرز پر مبنی اس تحقیق میں 97 ایسی خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں حمل یا زچگی کے بعد تین ماہ کے اندر فالج ہوا، جبکہ ان کا موازنہ 280 ایسی خواتین سے کیا گیا جنہیں فالج نہیں ہوا تھا۔

شرکاء کی صحت اور سماجی صورتحال کا اوسطاً 12 برس تک جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں: عالمی میڈیا میں ایران پر امریکی حملے کی بازگشت، یورپی شہریوں کا انخلا

اعداد و شمار کے مطابق فالج کا شکار 6 فیصد خواتین کو دوبارہ فالج کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ فالج سے محفوظ گروپ میں ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح 7 فیصد خواتین کو دل کے بڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک لاحق ہوئے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ فالج والی خواتین میں دل کی بیماریوں کا امکان تقریباً نو گنا زیادہ تھا۔

ذہنی صحت کے حوالے سے تحقیق میں بتایا گیا کہ فالج کا شکار 19 فیصد خواتین ڈپریشن میں مبتلا ہوئیں، جبکہ فالج سے محفوظ خواتین میں یہ شرح صرف 6 فیصد رہی۔

ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حمل کے دوران ہونے والا فالج نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی دیرپا اثرات ڈالتا ہے۔

تحقیق میں روزگار پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

نتائج کے مطابق فالج سے متاثرہ خواتین کے ملازمت میں ہونے کے امکانات نمایاں طور پر کم جبکہ ریٹائرمنٹ کے امکانات کہیں زیادہ پائے گئے۔

اگرچہ زیادہ تر خواتین جسمانی طور پر بحال ہو گئیں، تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد کام پر واپس نہ جا سکی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ حمل کے دوران فالج کا شکار ہونے والی خواتین کیلئے بروقت احتیاطی اقدامات، مسلسل طبی نگرانی اور مؤثر بحالی پروگرام ناگزیر ہیں، تاکہ مستقبل میں صحت اور معاشرتی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔