Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کینسر کی دوبارہ آمد کے خلاف علاج میں انقلابی پیش رفت

اگرچہ G2.2 ابھی قبل از کلینیکل مرحلے میں ہے، مگر یہ طریقہ کار کینسر کے علاج میں امید کی کرن ہے

کینسر کے علاج میں گزشتہ چند دہائیوں میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک خوفناک مسئلہ برقرار ہے: بیماری کا دوبارہ نمودار ہونا۔

کئی مریض سرجری، کیمو تھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کا کینسر ختم ہو گیا ہے، مگر کچھ سالوں بعد یہ دوبارہ اور زیادہ جارحانہ انداز میں سامنے آ جاتا ہے۔

ماہرین اب سمجھتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ ایک چھوٹے گروہ کے خلیات ہیں جنہیں کینسر اسٹیم سیلز کہا جاتا ہے۔

یہ خلیات عام کینسر خلیات سے مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔ جہاں زیادہ تر کینسر خلیات تیزی سے بڑھتے ہیں اور کیمو تھراپی سے نشانہ بنتے ہیں، اسٹیم سیلز جسم میں “چھپ” کر رہ جاتے ہیں اور طویل عرصے تک غیر فعال رہتے ہیں۔

یہی خلیات بعد میں جاگ کر نئے ٹیومرز بناتے ہیں۔

ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں پروفیسر اُمیش دیسائی نے 30 سال سے زیادہ عرصے سے ایسے پیچیدہ شکر نما مالیکیولز پر تحقیق کی ہے جو اس مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

ان کی توجہ گلیکوسامینوگلیکینز (GAGs) پر ہے، جو انسانی خلیات کی سطح پر موجود لمبی زنجیریں ہیں اور خون کے جماؤ، سوزش، خلیاتی نمو اور خلیات کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

دیسائی اور ان کے ساتھی ڈاکٹر بھاؤمک پٹیل نے GAGs کی نقل تیار کی اور ایک نئے مالیکیول G2.2 کو ایجاد کیا۔

یہ مالیکیول خاص ریسیپٹر کے ذریعے اسٹیم سیلز کو ان کی پوشیدہ حالت سے باہر نکالتا ہے اور انہیں خودکش سگنلز کی طرف لے جاتا ہے، جس سے یہ خلیات ختم ہو جاتے ہیں۔

لیبارٹری میں مختلف ماڈلز میں G2.2 نے کولوریکٹل، پھیپھڑوں، دماغ، گردے اور پانکریاز کے کینسر میں پوشیدہ اسٹیم سیلز تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیے۔

مزید برآں، یہ مالیکیول محفوظ بھی پایا گیا اور یہ جسم کی قدرتی قوت مدافعت، خاص طور پر T-cells، کو بھی فعال کرتا ہے تاکہ کینسر سے لڑنے میں مدد ملے۔

اگرچہ G2.2 ابھی قبل از کلینیکل مرحلے میں ہے، مگر یہ طریقہ کار کینسر کے علاج میں امید کی کرن ہے۔

یہ صرف تیزی سے بڑھنے والے ٹیومرز پر حملہ نہیں کرتا بلکہ ان خفیہ جڑوں کو نشانہ بناتا ہے جو کینسر کو دوبارہ پیدا ہونے دیتی ہیں۔