موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی نزلہ، زکام، فلو اور بخار جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، جن سے تقریباً ہر شخص متاثر ہوتا ہے، تاہم چند احتیاطی تدابیر اور متوازن غذا کے استعمال سے ان امراض سے بچاؤ ممکن ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماہرینِ صحت نے سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے چند مؤثر مشورے دیے ہیں، جن پر عمل کر کے خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
سردیوں کی دھوپ سے فائدہ اٹھائیں
ماہرِ صحت ڈاکٹر سووا اموتھا لنگم کے مطابق سردیوں میں دن کے وقت سورج کی روشنی حاصل کرنا نہایت مفید ہے۔ کھڑکی کے قریب بیٹھنا یا صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے کے درمیان کم از کم 10 منٹ چہل قدمی کرنا صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق قدرتی روشنی والے دفاتر میں کام کرنے والوں میں سر درد اور غنودگی کی شکایت نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔
صفائی ستھرائی کو معمول بنائیں
سردیوں میں وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں، جو گرد و غبار، جوتوں اور ہاتھوں کے ذریعے گھروں میں داخل ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک دھونا، جوتوں کو گھر میں داخلے سے پہلے صاف کرنا یا باہر اتار دینا بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ہرے پتوں والی سبزیاں اور متوازن غذا
غذائی ماہر روشی بھوانیا کے مطابق سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، شلجم کے پتے اور چقندر، دالیں، براؤن چاول، زیتون کا تیل، بادام، اخروٹ اور چکنائی والی مچھلیاں دماغی اور جسمانی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔
شام میں ہلکی ورزش
عام تاثر کے برعکس، نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ شام کے وقت ہلکی پھلکی ورزش نیند کو بہتر بناتی ہے۔ ورزش ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
مختصر قیلولہ فائدہ مند
طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے وقت 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ ذہنی کارکردگی بہتر بناتا ہے اور دماغی صحت کے لیے مفید ہے، بشرطیکہ اس کا دورانیہ مختصر رکھا جائے۔
سرد ہوا سے بچاؤ ضروری
شدید سردی میں غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کیا جائے، اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو ماسک یا اسکارف سے ناک اور منہ ڈھانپیں۔
دمہ کے مریض اپنی ادویات اور انہیلر کا باقاعدہ استعمال جاری رکھیں۔
تاہم، ان سادہ مگر مؤثر احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے سردیوں میں صحت مند اور توانا رہا جاسکتا ہے۔




















