سائنس دانوں نے فلو کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے ایک انوکھا تجربہ کیا مگر نتیجہ توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔
اس تجربے میں چند صحت مند رضاکاروں کو ایک چھوٹے ہوٹل کے کمرے میں کئی دنوں تک ایسے افراد کے ساتھ رکھا گیا جو فلو میں مبتلا تھے۔
سب لوگ ایک ساتھ بیٹھے، کھیل کھیلے، چیزیں آپس میں استعمال کیں اور ورزش بھی کی مگر حیران کن طور پر کسی ایک فرد کو بھی فلو لاحق نہ ہوا۔
یہ تحقیق اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے کی گئی کہ فلو حقیقت میں کس طرح پھیلتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ فلو کھانسی، چھینک یا سانس کے ذریعے فضا میں پھیلتا ہے یا پھر آلودہ چیزوں کو چھونے سے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہوتا ہے۔
تاہم اس تجربے نے ثابت کیا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، تحقیق کے دوران فلو میں مبتلا افراد اور صحت مند رضاکاروں کو محدود جگہ پر رکھا گیا، جہاں درجہ حرارت اور نمی ایسی رکھی گئی جو فلو کے پھیلاؤ کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے۔
ہوا کے گزر کے راستے بھی جان بوجھ کر کم کردیے گئے تاکہ وائرس آسانی سے پھیل سکے۔ اس کے باوجود فلو منتقل نہ ہوسکا۔
ماہرین کے مطابق اس کی چند ممکنہ وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ فلو کے مریضوں میں وائرس خارج ہونے کی مقدار کم تھی کیونکہ وہ زیادہ کھانستے یا چھینکتے نہیں تھے۔
دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ صحت مند افراد میں پہلے سے جزوی مدافعت موجود تھی کیونکہ وہ ماضی میں کئی بار فلو کا سامنا کرچکے تھے یا ویکسین لگوا چکے تھے۔
تیسری اہم وجہ کمرے میں ہوا کی گردش تھی جس نے وائرس کو ایک جگہ جمع ہونے نہیں دیا۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ فلو زیادہ تر انہی افراد سے پھیلتا ہے جو شدید علامات رکھتے ہوں اور زیادہ مقدار میں وائرس خارج کرتے ہوں۔
ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوا کہ بند جگہوں میں ہوا کا مناسب گزر اور مدافعتی قوت فلو کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ فلو کو ہلکا نہیں لینا چاہیے بلکہ احتیاط، ویکسین اور علامات کی صورت میں تنہائی اختیار کرنا اب بھی نہایت ضروری ہے۔




















