انٹرنیٹ پر نیند سے متعلق بے شمار مشوروں کی دستیابی کے باوجود، دنیا بھر میں بڑھتی تعداد میں بالغ افراد ون ٹو ون سلیپ کوچز کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ حد سے زیادہ اور متضاد معلومات ہے، جو کئی لوگوں کو مزید الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
تھورسٹن نامی ایک پیشہ ور شخص کے مطابق وہ نیند بہتر بنانے کے لیے آن لائن دستیاب تقریباً ہر مشورے پر عمل کر چکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جاگنے کے لمحے سے لے کر سونے تک ان کی ہر سرگرمی اچھی نیند کے گرد گھومتی تھی، اس کے باوجود ہر چند ہفتوں بعد وہ صبح ساڑھے چار بجے جاگ جاتے اور دوبارہ سو نہیں پاتے، جس سے کام اور گھریلو زندگی دونوں متاثر ہونے لگیں۔
ایک ساتھی کے مشورے پر انہوں نے پہلی بار بالغ افراد کے لیے سلیپ کوچ کے بارے میں سنا۔
حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ ان کے کئی ساتھی پچھلے دو سے تین برسوں میں سلیپ کوچنگ سے فائدہ اٹھا چکے تھے۔
ان کے بقول یہ ایک ایسی دنیا تھی جس کے وجود کا انہیں پہلے علم ہی نہیں تھا۔
سلیپ کنسلٹنسی فراہم کرنے والے اسٹیورٹ تھامسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو سال قبل بڑوں کے لیے سلیپ کوچنگ کا آغاز بڑھتی طلب کے باعث کیا۔
ان کے مطابق ایسے لوگ سامنے آ رہے تھے جنہیں پہلے کبھی نیند کا مسئلہ نہیں ہوا تھا، مگر اب وہ تمام تحقیق اور خود مدد کے باوجود مسئلہ حل نہیں کر پا رہے تھے۔
لندن میں سلیپ کنسلٹنٹ کیٹی فشر کے مطابق حالیہ برسوں میں ان کے کام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ ان کی سلیپ ہائجین بالکل درست ہے، پھر بھی نیند نہیں آتی۔
ایسے میں سلیپ کوچ ان کی انفرادی عادات، ذہنی دباؤ اور روزمرہ معمولات کو سمجھ کر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سلیپ کوچنگ اب صرف نومولود بچوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شفٹ ورکرز، ایگزیکٹوز اور دیگر مصروف افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سلیپ فکسر کے نام سے جانی جانے والی کیری ڈیوس کا کہنا ہے کہ بعض اوقات نیند کے مسئلے سے نکلنے کے لیے گہری توجہ اور مکمل رہنمائی ضروری ہوتی ہے، جبکہ سلیپ ٹریکنگ ڈیوائسز بعض افراد میں الٹا بے چینی بڑھا دیتی ہیں۔
برطانیہ کے اعداد و شمار کے مطابق اوسط بالغ فرد ہفتے میں صرف تین دن معیاری نیند حاصل کرتا ہے، جبکہ 14 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی دن اتنی نیند نہیں ملتی کہ وہ درست طریقے سے کام کر سکیں۔
38 فیصد افراد کو ہفتہ وار بنیادوں پر نیند کی کمی کے باعث ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن مشورے عموماً عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں، جبکہ غلط معلومات اکثر مسئلے کو بڑھا دیتی ہیں، جیسے یہ خیال کہ ہر شخص کو لازماً آٹھ گھنٹے کی نیند درکار ہے یا نیند نہ آنے پر جلدی سونا فائدہ دے گا۔
بعض افراد بلا ضرورت اپنی پسندیدہ چیزیں بھی چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ کیفین یا اسکرین کی روشنی ہر کسی کے لیے یکساں نقصان دہ نہیں ہوتی۔
تھورسٹن کے مطابق انہیں صرف ایک سیشن کی ضرورت پڑی، جس میں انہیں احساس ہوا کہ وہ بہت جلدی بستر پر چلے جاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق سونے کا وقت بدلا تو مسئلہ خود بخود حل ہو گیا، اور یہی سلیپ کوچنگ کی اصل افادیت ہے۔
