نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک مخصوص وٹامن آنتوں کی حرکت اور ٹوائلٹ جانے کے معمول کو متاثر کرسکتا ہے جس سے قبض یا اسہال جیسے مسائل میں بہتری کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق خوراک ہضم ہونے کی رفتار یعنی آنتوں کی حرکت کا تعلق وٹامن بی ون سے جڑا ہوا ہے۔
جینیاتی مطالعے میں ایسے جینز کی نشاندہی ہوئی جو وٹامن بی ون کے جسم میں استعمال اور اس کی ترسیل کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہی عمل ٹوائلٹ جانے کے معمول کو متاثر کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنتوں کی حرکت میں خرابی قبض، اسہال اور آنتوں کی حساس بیماری جیسے مسائل کی بنیادی وجہ بنسکتی ہے مگر اس کے پیچھے حیاتیاتی عوامل کو سمجھنا مشکل رہا ہے۔
نئی تحقیق نے وٹامن بی ون کو ایک ایسا عنصر قرار دیا ہے جس پر مزید تجربات اور طبی مطالعات کیے جاسکتے ہیں۔
وٹامن بی ون اناج، گوشت، مچھلی اور دالوں میں پایا جاتا ہے اور یہ جسم میں خوراک کو توانائی میں بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے اثرات آنتوں اور آنتوں میں موجود مفید جراثیم پر بھی سامنے آرہے ہیں۔
تحقیق میں یورپ اور مشرقی ایشیا کے 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
بعد ازاں تقریباً 1 لاکھ افراد کے کھانے پینے اور ٹوائلٹ جانے کے معمولات کا تجزیہ کیا گیا جس سے وٹامن بی ون کے استعمال اور ٹوائلٹ جانے کے معمول کے درمیان مضبوط تعلق سامنے آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مخصوص افراد کے لیے غذائی حکمت عملی، خصوصاً وٹامن بی ون کا استعمال، آنتوں کی خرابی اور حساس آنتوں کے مسائل میں بہتری لاسکتا ہے۔



















