بار بار نزلے میں مبتلا ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں ۔ سائنسدانوں نے نئی تحقیق دریافت کرلی۔ طبی ماہرین نے اس وائرس سے بار بار متاثر ہونے کی وجوہات بیان کردیں۔
نئی تحقیق کے مطابق اس فرق کی اصل وجہ ناک کی اندرونی جھلی کا فوری دفاعی ردِعمل ہے۔جو وائرس کو ابتدا ہی میں روک سکتا ہے۔
یہ تحقیق 19 جنوری کو سائنسی جریدےسیل پریس بلیو میں شائع ہوئی ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ناک کے خلیے رائنو وائرس کے خلاف جسم کی پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ خلیے وائرس کے داخل ہوتے ہی تیزی سے اینٹی وائرل ردِعمل شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بیماری پھیلنے سے پہلے ہی قابو میں آ سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس ابتدائی دفاع کی قیادت انٹرفیرون نامی پروٹین کرتے ہیں۔جو متاثرہ خلیوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے صحت مند خلیوں کو بھی وائرس کے خلاف متحرک کر دیتے ہیں۔
اگر یہ ردِعمل فوراً شروع ہو جائے تو وائرس محدود رہتا ہے۔ لیکن اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔
ناک کی جھلی کا ماڈل، وائرس کا پھیلاؤ اور نقصان
تحقیق کے لیے انسانی ناک کے اسٹیم سیلز سے لیبارٹری میں ناک کی جھلی جیسا ایک ماڈل تیار کیاگیا۔جسے چار ہفتے تک ہوا کے سامنے رکھا گیاتاکہ یہ قدرتی بافتوں کی طرح نشوونما پا سکے۔
اس ماڈل میں بلغم بنانے والے خلیے اور بال نما خلیے بھی شامل تھے۔جو ناک اور پھیپھڑوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
جب محققین نے ان سینسرز کو بلاک کیا جو وائرس کو پہچانتے ہیں۔ تو رائنو وائرس نے تیزی سے خلیوں کو متاثر کیا، شدید نقصان پہنچا اور بعض نمونے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
تحقیق کے نتائج
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب وائرس کی تعداد بڑھتی ہے تو یہ ایک اور نظام کو متحرک کر دیتا ہے۔ جو شدید بلغم کی پیداوار اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔
یہی عمل سانس لینے میں دشواری اور دمہ جیسے مریضوں میں علامات کو بگاڑ دیتا ہے۔
تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ کسی وائرس سے بیماری ہوگی یا نہیں اور کتنی شدید ہوگی ۔اس کا انحصار زیادہ تر جسم کے ردِعمل پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف وائرس کی خصوصیات پر۔
سائنسدانوں نے تسلیم کیا کہ لیبارٹری ماڈل میں حقیقی انسانی جسم کے تمام عوامل شامل نہیں۔جیسے مکمل مدافعتی نظام اور ماحولیاتی اثرات۔ آئندہ تحقیق میں ان پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔




















