کھیلوں کے جوتوں کی دنیا میں حالیہ برسوں میں ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ مخصوص ساخت کے جوتے نہ صرف جسمانی کارکردگی بلکہ ذہنی توجہ، حسی آگاہی اور یکسوئی کو بھی بہتر بناسکتے ہیں۔
ان جوتوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ پیروں کے نچلے حصے کو متحرک کرکے دماغ اور جسم کے درمیان تعلق کو مضبوط بناتے ہیں۔
اعصابی ماہرین کے مطابق پیروں کے تلووں میں ہزاروں حسی اعصاب موجود ہوتے ہیں جو دباؤ، کمپن، سطح اور حرکت کو محسوس کرتے ہیں۔
یہ اعصابی پیغامات ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے دماغ کے اس حصے تک پہنچتے ہیں جو جسم کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوتے توازن، اندازِ حرکت اور جسمانی استحکام پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرینِ اعصابیات اور جسمانی معالجین طویل عرصے سے اس بات پر توجہ دیتے آرہے ہیں کہ جوتے مریضوں کی چال، توازن اور حرکات کو کس طرح متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے افراد میں جنہیں اعصابی کمزوری یا چلنے پھرنے میں دشواری ہو۔
تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ حرکت میں بہتری اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔
کچھ ہلکے اور کم گدّے دار جوتے پیروں سے دماغ تک زیادہ حسی معلومات پہنچاتے ہیں جس سے بعض افراد میں زمین سے رابطے اور جسمانی توازن کا احساس بہتر ہوسکتا ہے۔
لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ زیادہ حسی تحریک ہر صورت فائدہ مند نہیں ہوتی۔ دماغ غیر ضروری معلومات کو خود بخود نظر انداز کرتا ہے اور اگر حسی دباؤ حد سے بڑھ جائے تو یہ توجہ بٹنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
جہاں تک توجہ اور یکسوئی بڑھانے کے دعوؤں کا تعلق ہے تو اعصابی سائنس اس بارے میں خاصی محتاط ہے۔ توجہ، فیصلہ سازی اور ذہنی کنٹرول دماغ کے کئی حصوں اور کیمیائی عوامل پر منحصر ہوتے ہیں۔ صرف پیروں سے آنے والی حسی تحریک ان پیچیدہ نظاموں کو براہِ راست بہتر نہیں بناسکتی۔
ماہرین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یقین اور توقع انسانی ذہن پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگر کوئی فرد یہ مان لے کہ مخصوص جوتے اس کی کارکردگی یا توجہ بہتر بنارہے ہیں تو یہی احساس اس کے اعتماد اور رویے میں مثبت تبدیلی لاسکتا ہے۔ جسمانی استحکام، درست اندازِ حرکت اور آرام دہ احساس بالواسطہ طور پر ذہنی کیفیت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ سائنسی حقیقت اور تشہیری دعوؤں کے درمیان فرق کا ہے۔ جوتے جسمانی احساس، حرکت اور اعتماد پر اثر تو ڈال سکتے ہیں مگر عام افراد میں توجہ یا ذہنی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھانے کے دعوؤں کے ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
ذہنی صحت اور کارکردگی کے لیے مستقل ورزش، مناسب نیند، تربیت اور توجہ کہیں زیادہ مؤثر عوامل ہیں۔ جوتے سفر کو بہتر بناسکتے ہیں لیکن منزل کا تعین انسان خود کرتا ہے۔




















