وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے گھروں پر بیٹھی ڈاکٹروں کو صحت کے شعبے میں شامل کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلازیشن پروگرام کے تحت کراچی کے تیسرے ڈیجیٹلائز ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک اور ڈیجیٹلائڈز سینٹر کا افتتاح کیا ہے، قطر میں ڈاکٹر اور کراچی میں مریض ہوں اس کا علاج بھی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں چار، اسلام آباد پانچ ٹیلی میڈیسن کلینک بنائیں گے جہاں ٹیکنالوجی کے تحت ڈاکٹروں کو فزیکل موجود ہونے کی ضرورت نہیں ہے ٹیلی میڈیسن میں زیادہ تر خواتین ڈاکٹرز کو شامل کیا گیا ہے یہ موجود ہوگی تو لوگ آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کو دہلیز پر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے مصطفیٰ کمال کا بڑا اقدام
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہماری خواتین جو ڈاکٹر بن کر شادی ہونے کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں، ایسی تمام خواتین گھروں میں بیٹھ کر ہی مریضوں کا علاج کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک کے ڈاکٹر بھی یہاں آن لائن مریضوں کو دیکھ سکیں گے، آج کے زمانے میں اللہ نے ٹیکنالوجی ایسی دیدی ہے ڈاکٹر یہاں موجود ہونے کی ضرورت نہیں، یہاں ہم اندر گئے تو مریض کو ملتان سے بیٹھ کر ڈاکٹر دیکھ رہی تھی، اب یہ ڈسپنسری شام چھ بجے تک اوپن رہے گی، جبکہ پانچ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو ڈسپنسری میں تعینات کیا گیا ہے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ دو فروری سے پولیو کے قطرے پلانےکی مہم شروع کررہے ہیں، ہر سال 62 لاکھ بچے پیداہوتےہیں ہمیں اس کی فکرکرنی چاہیے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں ماؤں کی صحت کاخیال کرنا ہے، ہمیں عقل اور شعور اجاگرکرناہے، ہمیں آبادی کوبھی کنٹرول کرناہے، ہمیں اپنارویہ تبدیل کرناہوگا۔



















