Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سر سے جسمانی حرارت زیادہ خارج ہونے کا خیال صرف افسانہ؟

اگر جسم کا بیشتر حصہ ڈھانپا ہوا ہو لیکن سر کھلا ہو، تو حرارت سر اور چہرے سے نکلے گی

یہ مشہور خیال کہ انسان کی زیادہ تر جسمانی حرارت سر سے خارج ہوتی ہے، حقیقت میں تقریباً ایک افسانہ ہے۔

اس نظریے کی ابتدا 1970 کی دہائی میں امریکی فوج کے سرواول مینوئل سے ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ بغیر ڈھکے سر سے 40 سے 45 فیصد حرارت خارج ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سرد موسم میں ٹوپی پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن سر کسی خاص وجہ سے زیادہ حرارت کھو نہیں رہا ہوتا۔

ماہر ویکسین امیونولوجی پروفیسر جان ٹریگوننگ کے مطابق، جسم کا کوئی بھی کھلا حصہ حرارت کھو سکتا ہے۔ اگر جسم کا بیشتر حصہ ڈھانپا ہوا ہو لیکن سر کھلا ہو، تو حرارت سر اور چہرے سے نکلے گی۔

تاہم، اگر دیگر حصے بھی بے ڈھکے ہوں، تو وہ کہیں زیادہ حرارت کھو سکتے ہیں، جیسے انتہائی سرد ماحول میں اگر صرف سوئمنگ سوٹ پہنے جائیں تو ٹانگیں سر سے زیادہ حرارت کھوئیں گی کیونکہ ان کا رقبہ بڑا ہے۔

مزید پڑھیں: سر پر معلق رہنے والی انوکھی چھتری تیار

سر کی تھوڑی زیادہ حرارت کھونے کی وجہ یہ ہے کہ سر میں جسم کے دیگر حصوں کی نسبت کم چربی ہوتی ہے، جو قدرتی انسولیشن فراہم کرتی ہے۔

خون کی نالیوں کا سکڑنا (واسوکنسٹرکشن) بھی حرارت محفوظ کرنے میں سر میں کم مؤثر ہوتا ہے۔ مگر مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ حرارت خارج ہونے کی رفتار سر سے کہیں زیادہ تیز نہیں ہوتی۔

عملی مشورہ:

سرد موسم میں ہمیشہ ٹوپی پہنیں اور اگر ممکن ہو تو چہرہ بھی ڈھانپیں، کیونکہ ان حصوں سے کافی حرارت خارج ہو سکتی ہے۔ اگر یہ حصے بے ڈھکے ہوں، تو آپ اتنی ہی جلدی سردی محسوس کریں گے جتنی کہ بغیر سویٹر یا جیکٹ کے باہر جانے پر ہوتی ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سر بیشک حرارت کھوتا ہے، لیکن یہ جسم کا اہم حرارت کھونے والا حصہ نہیں ہے۔ بلکہ تمام بے ڈھکے حصوں کو ڈھانپنا ہی اصل میں حرارت کو محفوظ رکھتا ہے۔