کافی واقعی ہاضمے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، مگر یہ ہر شخص اور وقت پر منحصر ہے۔
ماہر غذائیت ڈاکٹر ایملی لیمنگ کے مطابق، کافی میں موجود کیفین آنتوں کی حرکات کو بڑھاتا ہے اور کھانے کو ہاضمے کے عمل سے گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہے جن کا ہاضمہ سست ہے۔
تاہم، جو لوگ آئی بی ایس (ایریٹیبل باؤل سنڈروم) یا حساس نظام ہاضمہ رکھتے ہیں، ان کے لیے کافی ہاضمے کو تیز کر کے تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، روزانہ کافی پینے سے مکمل ہاضمے کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: تھرمل مگ میں کافی پینا جان لیو ثابت ہوا
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کافی پینے والے افراد کے آنتوں میں صحت مند بیکٹیریا زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ کافی میں موجود پولی فینولز اور تھوڑی مقدار میں فائبر ان بیکٹیریا کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔
تاہم، وقت کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ کیفین جسم میں 12 گھنٹے تک رہ سکتا ہے اور نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔ خراب نیند بھی ہاضمے پر منفی اثر ڈالتی ہے اور غیر صحت مند خوراک کی طرف راغب کرتی ہے۔
ڈاکٹر لیمنگ کا مشورہ ہے کہ کافی دوپہر سے پہلے پئیں اور بعد از دوپہر ڈیکاف یا ہربل چائے استعمال کریں تاکہ ہاضمے اور نیند دونوں متاثر نہ ہوں۔
مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کافی ہاضمے کے لیے مددگار ہو سکتی ہے، مگر ذاتی حساسیت اور وقت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔



















