Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو کافی پینی چاہیے یا نہیں؟ ماہرین کی اہم رہنمائی

کافی وقتی طور پر بلڈ پریشر میں اضافہ کرسکتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو کم کافی پیتے ہیں۔

کافی کو ہماری زندگی کا حصہ بنے ہوئے صدیوں گزر چکی ہیں اور آج دنیا بھر میں کروڑوں لوگ روزانہ اسے پیتے ہیں تاہم ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا کافی ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے یا نہیں۔

کافی وقتی طور پر بلڈ پریشر میں اضافہ کرسکتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو کم کافی پیتے ہیں یا پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بلڈ پریشر کے مریضوں کو کافی مکمل طور پر ترک کردینی چاہیے کیونکہ اعتدال سب سے اہم اصول ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کیا ہے؟

بلڈ پریشر وہ دباؤ ہے جو خون شریانوں پر ڈالتا ہے۔ اگر یہ دباؤ مسلسل 140/90 یا اس سے زیادہ رہے تو اسے ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔

اس بیماری کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی واضح علامات نہیں ہوتیں لیکن اگر علاج نہ کیا جائے تو دل کے دورے، فالج اور گردوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کافی بلڈ پریشر پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

کافی میں موجود ایک جزو دل کی دھڑکن کو تیز کرسکتا ہے اور جسم میں ایسے ہارمون خارج کرتا ہے جو شریانوں کو سکیڑ دیتے ہیں جس سے بلڈ پریشر وقتی طور پر بڑھ سکتا ہے۔

یہ اثر عموماً کافی پینے کے ایک سے دو گھنٹے بعد زیادہ ہوتا ہے تاہم یہ اثر ہر شخص میں مختلف ہوسکتا ہے جب کہ یہ عمر، عادت اور جسمانی ساخت پر منحصر ہوتا ہے۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق کافی پینے سے بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ ہوسکتا ہے لیکن یہ اضافہ مستقل نہیں ہوتا۔

کافی میں فائدہ مند اجزا بھی موجود ہیں

کافی میں قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی نالیوں کو بہتر کام کرنے میں مدد دیتے ہیں اور جسم میں پانی کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔

کچھ اجزا ایسے بھی ہیں جو شریانوں کو لچک دار بناتے ہیں جس سے بلڈ پریشر کو سنبھالنے میں آسانی ہوتی ہے۔

کیا کافی ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتی ہے؟

بڑی سطح پر کی گئی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مناسب مقدار میں کافی پینے سے ہائی بلڈ پریشر ہونے کا خطرہ نہیں بڑھتا تاہم جن افراد کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو ان میں زیادہ مقدار نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک طویل تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر روزانہ دو یا زیادہ کپ کافی پیتے ہیں تو دل کی بیماری سے موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جب کہ معمولی یا نارمل بلڈ پریشر والوں میں ایسا خطرہ نہیں دیکھا گیا۔

نتیجہ اور احتیاطی تدابیر

کافی ترک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ احتیاط ضروری ہے۔ اپنا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کریں، دوپہر کے بعد کافی سے پرہیز کریں تاکہ نیند متاثر نہ ہو اور روزانہ چار کپ سے زیادہ کافی نہ پیئیں۔

اگر بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو تو ایک کپ تک محدود رہیں اور اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔