Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بڑی کامیابی؛ ایسا گردہ تیار جو ہر خون کے گروپ کے لیے قابلِ قبول

یہ پیش رفت گردے کی پیوندکاری کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوسکتی ہے۔

سائنس دانوں نے گردے کی پیوندکاری کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت حاصل کرلی ہے جس سے مستقبل میں ہزاروں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایسا گردہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو کسی بھی خون کے گروپ رکھنے والے مریض کو لگایا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق کینیڈا اور چین کے مختلف سائنسی اداروں کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے گردے پر تجربہ کیا جو اصولی طور پر ہر مریض کے جسم میں قبول کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ گردہ ایک دماغی طور پر فوت شدہ شخص کے جسم میں کئی دن تک کام کرتا رہا جس کے لیے مرحوم کے اہلِ خانہ نے اجازت دی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اس طریقۂ کار کو انسانی جسم میں آزمایا گیا جس سے مستقبل میں گردے کی پیوندکاری کے نتائج کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

فی الوقت خاص طور پر ایسے مریض جن کا خون ایک مخصوص قسم کا ہوتا ہے، انہیں گردہ ملنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ صرف اسی خون کے گروپ کے عطیہ دہندہ سے گردہ لے سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے مریض برسوں انتظار کی فہرست میں رہتے ہیں اور کئی افراد پیوندکاری سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

تحقیق میں سائنس دانوں نے ایک خاص طریقہ استعمال کرتے ہوئے ایک مخصوص خون کے گروپ والے گردے کو اس طرح تبدیل کیا کہ وہ ہر خون کے گروپ کے مریض کے لیے قابلِ قبول بن سکے۔

اس عمل میں ایسے خاص حیاتیاتی عوامل استعمال کیے گئے جو گردے پر موجود شناختی نشانات کو ختم کردیتے ہیں جن کی وجہ سے جسم عام طور پر عضو کو مسترد کردیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ نشانات ختم ہوجاتے ہیں تو انسانی مدافعتی نظام اس گردے کو اجنبی نہیں سمجھتا اور اسے قبول کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

تاہم تحقیق کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ چند دن بعد گردے میں دوبارہ پرانی علامات ظاہر ہونے لگیں جس سے ہلکا سا ردِعمل پیدا ہوا مگر یہ ردِعمل عام حالات کے مقابلے میں کہیں کم تھا جو ایک مثبت اشارہ سمجھا جارہا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ابھی مزید تحقیق اور آزمائش کی ضرورت ہے لیکن یہ پیش رفت گردے کی پیوندکاری کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بنیادی سائنسی تحقیق براہِ راست مریضوں کی زندگی بہتر بنانے لگے تو یہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔