Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ماہواری کے خون کا ٹیسٹ سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے مؤثر متبادل

یہ ٹیسٹ انسانی پیپیلوما وائرس (HPV) کی موجودگی کو جانچتا ہے، جو کینسر پیدا کر سکتا ہے

تحقیق کے مطابق ماہواری کے دوران حاصل ہونے والا خون سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے ایک آسان اور مؤثر متبادل ہو سکتا ہے۔

چینی محققین کی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماہواری کے خون کا ٹیسٹ تقریباً اتنا ہی مؤثر ہے جتنا کہ کلینیکل نمونوں سے ٹیسٹ، اور اس سے جن خواتین میں کینسر نہیں ہوتا انہیں صحیح طور پر پہچاننا بھی آسان ہے۔

موجودہ طریقہ کار میں نرس یا ڈاکٹر سروائیکل سے سیلز کا نمونہ لیتے ہیں، لیکن اکثر خواتین یہ اسکریننگ کروانے نہیں آتیں۔ نئے طریقے میں خواتین اپنے گھر میں ہی ٹیسٹ کر سکتی ہیں، جس کے لیے ایک کاٹن اسٹِرپ اسٹینڈرڈ سینٹری پیڈ سے منسلک کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کینسر کی دوبارہ آمد کے خلاف علاج میں انقلابی پیش رفت

3,000 سے زائد خواتین پر کیے گئے مطالعے میں محققین نے پایا کہ ماہواری کے خون کا ٹیسٹ تقریباً اتنا ہی مؤثر ہے جتنا کہ کلینیکل نمونوں سے ٹیسٹ، اور اس سے جن خواتین میں کینسر نہیں ہوتا انہیں صحیح طور پر پہچاننا بھی آسان ہے۔

سروائیکل کینسر کا یہ ٹیسٹ ہر 25 سے 64 سال کی خواتین کو پانچ سال کے وقفے کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، یہ ٹیسٹ انسانی پیپیلوما وائرس (HPV) کی موجودگی کو جانچتا ہے، جو کینسر پیدا کر سکتا ہے۔

ایسا ٹیسٹ خواتین کے لیے کم تکلیف دہ، زیادہ نجی اور سہل طریقہ فراہم کرتا ہے، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ تمام خواتین کے لیے فوری متبادل نہیں کیونکہ صرف حیض والی خواتین اسے استعمال کر سکتی ہیں۔

ماہرین نے اسے حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خواتین کے لیے سروائیکل اسکریننگ تک رسائی بہتر ہو سکتی ہے، تاہم مزید تحقیق درکار ہے کہ یہ موجودہ نظام میں کس طرح فٹ ہو سکتا ہے۔