اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر ناشتہ چھوڑ دیا جائے یا کھانے میں وقفہ کرلیا جائے تو دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، توجہ کم ہوجاتی ہے اور انسان چڑچڑا پن محسوس کرتا ہے۔
ہماری ثقافت میں یہ خیال عام ہے کہ مسلسل کھاتے رہنا ہی چوکنا اور مؤثر رہنے کا راز ہے تاہم حالیہ برسوں میں محدود اوقات میں کھانا اور وقفے سے روزہ رکھنا صحت کے لیے مقبول طریقے بن چکے ہیں۔
اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ماہرین نے اب تک کی سب سے جامع تجزیاتی تحقیق کی جس میں مختلف مطالعات کو یکجا کرکے یہ دیکھا گیا کہ بھوکے اور پیٹ بھرے افراد کی ذہنی کارکردگی میں کیا فرق آتا ہے۔
اس جائزے میں 63 سائنسی مضامین اور 71 الگ مطالعات شامل تھے جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 484 افراد کی جانچ کی گئی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ صحت مند بالغ افراد کی توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں بھوک اور سیر ہونے کی حالت کے درمیان کوئی نمایاں فرق نہیں پایا گیا۔
روزہ رکھنے کے دوران جسم میں اہم حیاتیاتی تبدیلیاں آتی ہیں۔ عام حالات میں دماغ گلوکوز سے توانائی حاصل کرتا ہے جو جسم میں ذخیرہ شدہ ہوتی ہے۔ تقریباً بارہ گھنٹے بعد جب یہ ذخیرہ کم ہوجاتا ہے تو جسم چکنائی کو توڑ کر متبادل ایندھن پیدا کرتا ہے۔
یہی لچک ماضی میں انسان کی بقا کے لیے ضروری تھی اور اب اسے صحت کے کئی فوائد سے جوڑا جا رہا ہے۔ روزہ خلیوں کی صفائی کے عمل کو متحرک کرتا ہے، انسولین کی حساسیت بہتر بناتا ہے اور دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
البتہ تحقیق میں چند اہم نکات بھی سامنے آئے۔ بچوں اور نو عمر افراد میں کھانا چھوڑنے سے ذہنی کارکردگی متاثر ہوئی کیونکہ ان کے دماغ نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں اور انہیں باقاعدہ خوراک کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔
اسی طرح دن کے آخری حصے میں ٹیسٹ دینے والے بھوکے افراد کی کارکردگی نسبتاً کم دیکھی گئی۔ اگر ذہنی مشق میں کھانے سے متعلق اشارے شامل ہوں تو بھوک توجہ میں خلل ڈال سکتی ہے۔
مجموعی طور پر نتائج اطمینان بخش ہیں کہ صحت مند بالغ افراد مناسب احتیاط کے ساتھ وقفے سے روزہ رکھ سکتے ہیں تاہم ہر شخص کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے کسی بھی نئے طرزِ خوراک کو اپنانے سے پہلے اپنی عمر، صحت اور روزمرہ ذمہ داریوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔




















