ورزش گاہ جانے والے افراد کو اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کہ دوڑنے والے جوتوں میں وزن نہ اٹھائیں کیونکہ اس سے کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے اور چوٹ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم ایک ماہرِ سائنس نے اس حوالے سے سائنسی حقائق بیان کرتے ہوئے مختلف جوتوں کے اثرات واضح کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزن اٹھاتے وقت پاؤں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ چلنے اور دوڑنے کے دوران پاؤں جسم کو سہارا دیتے اور توازن برقرار رکھتے ہیں۔
اسی طرح جب کوئی شخص بھاری وزن اٹھاتا ہے، خاص طور پر بیٹھ کر اٹھنے والی مشقوں میں تو پاؤں زمین پر مضبوط گرفت فراہم کرتے ہیں۔ مستحکم پاؤں انسان کو زمین پر بہتر دباؤ ڈالنے میں مدد دیتے ہیں جس سے زیادہ وزن محفوظ انداز میں اٹھایا جاسکتا ہے۔
دوڑنے والے جوتے عام طور پر ایڑی سے اونچے، نرم اور جھٹکا جذب کرنے والے تلے کے ساتھ بنائے جاتے ہیں۔ یہ خصوصیات دوڑ کے لیے فائدہ مند ہیں مگر وزن اٹھاتے وقت یہی نرم تلا دباؤ کو جذب کرلیتا ہے جس سے انسان خود کو کم مستحکم محسوس کرسکتا ہے۔
اگرچہ بعض تحقیقات میں ٹخنے اور گھٹنے کی حرکت میں فرق دیکھا گیا لیکن ان تبدیلیوں کو براہِ راست چوٹ سے جوڑنے کے واضح شواہد موجود نہیں۔
وزن اٹھانے کے لیے عموماً تین اقسام کے جوتے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نہایت ہلکے اور باریک تلے والے جوتے جو ننگے پاؤں جیسا احساس دیتے ہیں، سادہ ہموار تلے والے عام جوتے اور خاص طور پر وزن اٹھانے کے لیے تیار کیے گئے سخت تلے والے جوتے۔
باریک اور ہموار تلے والے جوتے زمین سے بہتر رابطہ فراہم کرتے ہیں، اس لیے وہ دوڑنے والے جوتوں سے زیادہ مستحکم سمجھے جاتے ہیں۔
خصوصی وزن برداری جوتوں میں عموماً سخت اور مضبوط تلا ہوتا ہے جو گہرائی تک بیٹھ کر اٹھنے والی مشقوں میں استحکام بڑھاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق ایسے جوتے پہننے والوں کی کمر سیدھی رہتی ہے اور گھٹنوں کی حرکت بہتر ہوتی ہے جس سے نچلی کمر پر دباؤ کم پڑتا ہے۔ ایک اور مطالعے میں بتایا گیا کہ بعض افراد نے بغیر جوتوں یا صرف موزوں کے ساتھ زمین پر زیادہ مؤثر دباؤ ڈالا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جوتوں کا انتخاب فرد کے مقصد پر منحصر ہے۔ اگر ہدف زیادہ وزن اٹھانا ہے تو سخت تلے والے جوتے مددگار ہوسکتے ہیں جب کہ عام افراد کے لیے آرام دہ اور مستحکم جوتے کافی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ توازن برقرار رکھا جائے اور محفوظ طریقے سے ورزش جاری رکھی جائے۔




















